اسلام آباد: سرحد یونیورسٹی اسلام آباد میں پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے پر سینیئر صحافی و تجزیہ کار حماد حسن نے پختون ڈیجیٹل کے پوڈکاسٹ میں واقعے کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاملے کو صرف فائرنگ کے تناظر میں نہیں بلکہ اس صورتحال کے پس منظر میں بھی دیکھا جانا چاہیے۔
حماد حسن کے مطابق یونیورسٹی میں موجود ایک خاتون نے، جو متعلقہ فوجی افسر کی اہلیہ ہیں، اپنے شوہر سے رابطہ کرکے بتایا کہ بعض طلبہ نے ان کے ساتھ بدتمیزی کی ہے۔ ان کے مطابق شوہر اپنی اہلیہ کی مدد کے لیے یونیورسٹی پہنچے۔
اسلام آباد سرحد یونیورسٹی واقعے کے اصل حقائق کیا ہیں؟ سینیئر صحافی حماد حسن نے بتا دیا۔
مکمل ویڈیو لنک: https://t.co/YvpZrTaHwi pic.twitter.com/g6jhEiOOyE— Pakhtun Digital (@PakhtunDigital) August 24, 2026
سینیئر صحافی و تجزیہ کار نے کہا کہ یونیورسٹی پہنچنے کے بعد صورتحال کشیدہ ہوئی اور متعدد طلبہ افسر کے گرد جمع ہوگئے، جبکہ ویڈیو میں بعض افراد کی جانب سے دھکے دینے کا معاملہ بھی نظر آتا ہے۔
حماد حسن کے مطابق اس صورتحال میں متعلقہ افسر نے اپنی حفاظت کے لیے پستول نکالا اور ہوائی فائرنگ کی۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ فائرنگ کو درست قرار نہیں دے رہے، بلکہ یہ بتا رہے ہیں کہ واقعے کے وقت صورتحال کیا تھی اور افسر نے فائرنگ کیوں کی۔
یہ بھی پڑھیں : سرحد یونیورسٹی واقعہ، فوج کی اعلیٰ قیادت نے سخت نوٹس لے لیا
انہوں نے کہا کہ متعلقہ ادارے نے فوجی افسر کو اپنی تحویل میں لیا اور قانونی و تادیبی کارروائی بھی شروع کی، جو اس معاملے کا ایک اہم پہلو ہے۔
حماد حسن نے مزید کہا کہ واقعے کو سمجھنے کے لیے یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ایک شخص کے سامنے جب اس کی اہلیہ کو ہجوم کی جانب سے مبینہ طور پر گھیرے جانے کی صورتحال ہو تو وہ کس ردعمل کا اظہار کرتا ہے۔
دوسری جانب دستیاب معلومات کے مطابق واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ دار افراد کا تعین شواہد اور انکوائری کی بنیاد پر کیا جائے گا۔





