شمالی وزیرستان میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں مبینہ لوٹ مار، فوری نوٹس لینے کا مطالبہ

شمالی وزیرستان میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں مبینہ لوٹ مار، فوری نوٹس لینے کا مطالبہ

شمالی وزیرستان میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام  کے تحت نئے سم کارڈز کے اجرا کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں اور غریب عوام سے جبراً رقوم وصول کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

اس سنگین معاملے پر مقامی سماجی حلقوں اور شہریوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے،نئے سم کارڈز کے حصول کے لیے آنے والی مستحق خواتین سے فی سم ایک ہزار روپے تک کی مبینہ وصولی کی جا رہی ہے۔

ضابطے کے مطابق سم کمپنیاں مستحق خواتین کو یہ سمز بالکل مفت فراہم کرنے کی پابند ہیں، مفت فراہم کی جانے والی سہولت پر پیسے بٹورنا غریب عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے۔ ​

معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے متعلقہ اداروں سے فوری طور پر غیر جانبدارانہ انکوائری کروانے کی اپیل کی گئی ہے۔

 یہ بھی پڑھیں: بی آئی ایس پی رقم نکلوانے کے کتنے سروس چارجز مقرر ہیں؟ روبینہ خالد نے بتادیا

تحقیقات کے دوران اگر کوئی سرکاری اہلکار، مقامی عملہ یا بااثر فرد ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے، ​شہریوں کا دوٹوک مؤقف ہے کہ فلاحی اور مستحق عوام کے حق پر کسی بھی قسم کی کٹوتی یا ناجائز وصولی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی اور ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔

Scroll to Top