میں نے عمران خان کو بتایا وزیراعلیٰ کی کرسی پر بیٹھ کر آپ کی رہائی نہیں دیکھ رہا، ہمارے دور میں ملاقاتیں بھی ہوئیں اور سہولیات بھی ملتی رہیں، علی امین گنڈاپور

Pakistan SCO Summit 2026

سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اندرونی معاملات، بانی پی ٹی آئی عمران خان سے اپنی ملاقاتوں اور پارٹی قیادت سے متعلق اہم دعوے کیے ہیں۔

علی امین گنڈاپور نے کہا کہ پارلیمانی بورڈ سہیل آفریدی کو ٹکٹ دینے کے حق میں نہیں تھا، تاہم انہوں نے جدوجہد کرکے انہیں ٹکٹ دلوایا۔ ان کے بقول سہیل آفریدی پورے صوبے میں پارٹی یوتھ کے صدر ہیں اور ان کے لیے چھوٹے بھائی کی حیثیت رکھتے ہیں، اگر وہ انہیں ٹکٹ نہ دلا سکتے تو اپنی یوتھ کو کیا پیغام دیتے؟

انہوں نے کہا کہ وزیرستان مارچ انہوں نے خود ہوسٹ کیا تھا، تاہم ان کا کسی سے مقابلہ نہیں۔ علی امین گنڈاپور کے مطابق ان سے زیادہ قربانیاں دینے والے پارٹی میں موجود ہیں، لیکن بانی پی ٹی آئی عمران خان کئی بار ان کا نام لے کر کہہ چکے ہیں کہ ہر موقع پر علی امین کھڑا رہا۔

سابق وزیراعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ بانی پی ٹی آئی سے زیادہ ملاقاتیں ان افراد کی ہو رہی تھیں جو ان کے خلاف بیانات دیتے تھے، جبکہ ان کی اپنی ملاقات میں مسائل پیدا کیے جاتے تھے۔ ان کے مطابق پارٹی کے وی لاگز کے ذریعے یہ تاثر بھی دیا گیا کہ وہ بانی پی ٹی آئی سے ملنے نہیں جاتے۔

علی امین گنڈاپور نے کہا کہ انہوں نے بانی پی ٹی آئی کو اپنے خلاف بنائے گئے دو غلط بیانیوں سے متعلق کئی بار پیغامات بھیجے۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بعد انہوں نے اسد قیصر اور شہریار آفریدی کو ان کے بھائیوں سے متعلق معاملات سے پہلے ہی آگاہ کردیا تھا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملزم اسلم کو بانی پی ٹی آئی سے ایک بھی ملاقات نہیں کرنے دی گئی، جبکہ سہیل آفریدی سے متعلق بانی پی ٹی آئی کے سامنے ایک مختلف تاثر قائم کیا گیا اور ان کا ذہن تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی۔

علی امین گنڈاپور کے مطابق جنوری 2025 میں بانی پی ٹی آئی نے انہیں صوبائی صدارت سے ہٹایا تو انہوں نے واضح طور پر کہا تھا کہ وہ حکومت چلائیں گے۔ ان کے بقول جب صوبائی صدارت چل نہیں سکی تو انہیں بار بار ریلیاں نکالنے کے احکامات دیے گئے۔

انہوں نے پارٹی کے اندر ایک گروپ پر بجٹ سے متعلق غلط بیانیہ بنانے اور ان کے ارکان صوبائی اسمبلی کو غدار قرار دینے کا الزام بھی عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے بانی پی ٹی آئی کو آگاہ کیا تھا کہ پارٹی کے اندر ماحول ٹھیک نہیں اور اسے درست کرنا ضروری ہے۔

سابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے بانی پی ٹی آئی سے واضح طور پر کہا تھا کہ وہ انہیں دھوکہ نہیں دیتے اور نہ ہی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگاتے ہیں۔ ان کے مطابق انہوں نے بانی پی ٹی آئی کو پارٹی کے حالات اور ان لوگوں سے متعلق بھی آگاہ کیا جنہوں نے یہ صورتحال پیدا کی۔

علی امین گنڈاپور نے دعویٰ کیا کہ انہیں اطلاعات مل رہی تھیں کہ وزیراعلیٰ کے لیے بانی پی ٹی آئی کی جانب سے نام مانگے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ کس نے کون سے نام دیے اور کس بنیاد پر سہیل آفریدی کا نام پیش کیا گیا، جبکہ یہ بھی معلوم ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے کس شخصیت کے نام کو اہمیت دی۔

انہوں نے کہا کہ اسی دوران دوبارہ دھاوا بولنے کی باتیں بھی ہو رہی تھیں۔ علی امین گنڈاپور کے مطابق جب وہ وزیراعلیٰ تھے تو ان پر یہ دباؤ بھی ڈالا جاتا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کو تمام سہولتیں فراہم کی جائیں۔

سابق وزیراعلیٰ نے بتایا کہ دباؤ بڑھنے کے بعد ان کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرائی گئی۔ ان کے مطابق ملاقات میں عمران خان نے انہیں پیغام دیا کہ ’’میں نے وزیراعلیٰ سے ہٹا کر تمہاری سیاست بچائی ہے۔‘‘

علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ انہوں نے بانی پی ٹی آئی سے کہا کہ وہ ان سے خوش ہیں اور ان کے ہر فیصلے کے ساتھ ہیں۔ ان کے مطابق وہ پہلے ہی بانی پی ٹی آئی کو بتا چکے تھے کہ ان کے حکم پر جلسے کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی ان کے ساتھ بھلائی کر چکے ہیں اور انہیں اس حوالے سے پیغام بھی بھیج چکے ہیں۔ ان کے بقول بانی پی ٹی آئی کا انہیں ہٹانے کے بعد آخری پیغام حکومت سے متعلق آیا تھا۔

27 ستمبر سے متعلق علی امین گنڈاپور نے کہا کہ جن لوگوں نے اس روز قیادت کرنی ہے، یہ ان کی ذمہ داری ہے، تاہم وہ 27 ستمبر کو اپنی طاقت کے ساتھ پارٹی کے لیے نکلیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے لیے بانی پی ٹی آئی کی رہائی اور پارٹی کی تحریک اہمیت رکھتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کے خلاف جو سازشیں کی گئیں، بانی پی ٹی آئی کے باہر آنے کے بعد وہ ان کا حساب لیں گے۔

یہ بھی پڑھیں : جمرود: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے بھائی کے رویے کے خلاف شہری پھٹ پڑا،ویڈیو وائرل

علی امین گنڈاپور نے اکتوبر 2024 کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یکم اکتوبر کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہوئی، جس کے بعد باہر نکل کر انہوں نے کہا تھا کہ 4 اکتوبر کو دھاوا بولیں گے۔ ان کے مطابق تین دن لڑائی کے بعد وہ ڈی چوک پہنچے تھے اور سب کو معلوم تھا کہ بشریٰ بی بی گاڑی میں موجود ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب تک بشریٰ بی بی نے جانے کا نہیں کہا، کارکن ڈی چوک پر لڑتے رہے۔ ان کے بقول بعد ازاں بشریٰ بی بی کو ڈی چوک سے نکال کر مانسہرہ تک لے جایا گیا۔

سابق وزیراعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ ایک موقع پر وہ 18 گھنٹے لڑنے کے بعد راولپنڈی کے قریب پہنچے تو پارٹی کی جانب سے پیغام آیا کہ اب جلسہ نہیں کرنا۔

Pakistan SCO Summit 2026
Scroll to Top