وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نےکہا ہے کہ موجودہ سیاسی اور انتظامی نظام میں اختیارات کا چند ہاتھوں میں ارتکاز تمام خرابیوں کی جڑ ہے، اور جمہوریت کو حقیقی معنوں میں گراس روٹ لیول پر پنپنے کے لیے اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی ناگزیر ہو چکی ہے ۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے خیالات میں انہوں نے مؤقف اپنایا کہ صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کے معاملے پر سیاسی مصلحتوں سے بالاتر ہو کر سوچنا ہوگا۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ 18ویں آئینی ترمیم کے ذریعے اختیارات کی منتقلی کا جو آئینی اصول طے کیا گیا تھا، بدقسمتی سے اس پر اس کی اصل روح کے مطابق دیانت داری سے عمل درآمد نہیں کیا گیا۔؎
خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ ناموں یا لیبلز سے ہٹ کر اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ موجودہ نظام کی اصلاح کی جائے، خواہ اس کے لیے ملک کی موجودہ 36 ڈویژنز کو بنیاد بنایا جائے یا کوئی نئی انتظامی و جغرافیائی سکیم وضع کی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: نئے صوبے کیسے بنیں گے؟ وفاقی وزیر قانون نے فارمولا پیش کردیا
وزیر دفاع کا اپنے بیان میں مزید کہنا تھا کہ جب تک عام آدمی کو اختیارات اور وسائل کے ثمرات نہیں ملتے، جمہوریت مضبوط نہیں ہوسکتی۔





