ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کھیل کے قواعد بدل چکے ہیں اور آئندہ کسی بھی جارحیت کا جواب ماضی کے مقابلے میں زیادہ تیز، سخت اور تکلیف دہ ہوگا۔
محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران اب صرف متناسب جواب دینے کی پالیسی تک محدود نہیں رہے گا، انہوں نے امریکی قیادت پر زور دیا کہ وہ ایران کے تبدیل شدہ عسکری اور دفاعی مؤقف کو سمجھ لے۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سعودی عرب اور ترکی کے وزرائے خارجہ سے ٹیلیفونک رابطے کیے جن میں خطے کی موجودہ صورتحال اور بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ٹیلیفونک گفتگو کے دوران علاقائی صورتحال سے نمٹنے کے لیے سفارتی کوششوں اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے امکانات پر بھی بات چیت کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کے معاملے پر درست فیصلہ کیا، ہم پہلے ہی جیت چکے ہیں، امریکی صدر کے بڑے دعوے
ایرانی قیادت کی جانب سے سخت بیانات اور دوسری طرف اعلیٰ سطحی سفارتی رابطوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران ایک جانب کسی بھی ممکنہ جارحیت کے خلاف سخت ردعمل کا عندیہ دے رہا ہے جبکہ دوسری جانب علاقائی سطح پر سفارتی رابطے بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔





