وزیر دفاع خواجہ آصف نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ یمن سے سعودی عرب پر ہونے والے حملوں کے بعد پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا مشترکہ دفاعی معاہدہ مکمل طور پر فعال (آپریشنل) ہوگا، اور پاکستان اپنے اس عزم پر غیر متزلزل ہے کہ وہ ضرورت پڑنے پر اس معاہدے کے تحت بھرپور مدد فراہم کرے گا۔
ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اس سہ فریقی ’’مکہ معاہدے‘‘ کی بنیادی شق بالکل واضح ہے، جس کے تحت اگر ان میں سے کسی ایک بھی ملک پر جارحیت مسلط کی جائے گی تو اسے تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا ۔
خواجہ محمد آصف کا مزید کہنا تھا کہ اس معاملے میں کسی قسم کے شک یا ابہام کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب پر حوثی حملے، برادر ملک کے ساتھ ہر مشکل وقت میں کھڑے ہیں، وزیراعظم شہباز شریف
یاد رہے کہ یمن کے حوثی باغیوں (انصاراللہ) کی جانب سے حال ہی میں سعودی عرب کے شہروں ابہا، خمیس مشیط، نجران اور جازان میں اہم شہری اور معاشی تنصیبات کو میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا تھا، جن کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 73 افراد شدید زخمی ہو گئے تھے۔





