نئی دہلی: بھارتی سربراہی میں ہونے والے برکس اجلاس کے دوران وزیراعظم نریندر مودی کو مبینہ طور پر سفارتی محاذ پر بے رخی کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد اجلاس کے نتائج اور بھارت کی سفارتی حکمت عملی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
ذرائع کے مطابق برکس سمٹ کے دوران عالمی رہنماؤں نے باہمی ملاقاتوں اور گفتگو کو ترجیح دی، جبکہ میزبان بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پس منظر میں دکھائی دیے۔ اجلاس کے دوران عالمی رہنماؤں کی جانب سے مبینہ بے رخی کے باعث مودی کی سفارتی تنہائی بھی نمایاں ہوئی۔
برکس اجلاس کی فیملی فوٹو کے موقع پر بھی مودی کے رویے اور عالمی رہنماؤں کے ساتھ ان کے روابط موضوع بحث بن گئے۔ مبینہ طور پر مودی نے صدر شی جن پنگ اور صدر ولادیمیر پیوٹن کا ہاتھ کھینچا، جبکہ اس موقع پر بھی انہیں عالمی رہنماؤں کی جانب سے خاطر خواہ پذیرائی نہ ملنے کی بات کی جا رہی ہے۔
اجلاس میں سعودی عرب کی جانب سے صرف وزیر خارجہ کی شرکت اور برازیل کے صدر کی عدم شرکت کو بھی بھارت کے لیے سفارتی دھچکے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب پاکستان کے خلاف بھارتی میڈیا کی مبینہ پروپیگنڈا مہم کو بھی دھچکا لگا ہے۔ ملائیشین وزیراعظم کی جانب سے پاکستان کے خلاف بھارتی الزامات کو مسترد کیے جانے کو بھی بھارت کے لیے سفارتی نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: برکس سربراہی اجلاس میں بھارت کی ایک اور سفارتی ناکامی
برکس اجلاس کے دوران ہونے والی ملاقاتوں اور عالمی رہنماؤں کے رویے کے تناظر میں بھارت کی سفارتی پوزیشن اور وزیراعظم مودی کی خارجہ پالیسی پر نئی بحث شروع ہوگئی ہے





