سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے سانحہ پمز کی تحقیقاتی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف فوری مقدمہ درج کرنے کا حکم دیدیا ۔
سینیٹ بکی قائمہ کمیٹی کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا، جس میں کمیٹی نے ذمہ داروں کے خلاف فوری ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دے دیا۔
اس موقع پرثمینہ ممتاز نے ایس پی کو کہا ابھی ایف آئی آر درج کریں، یہ کیسی رپورٹ ہے جس میں ای ڈی کا نام ہی نہیں ہے، سابق ای ڈی پمز کو کون بچا رہا ہے؟ اس کے پیچھے کون ہے؟ سابق ای ڈی پمز کو ابھی گرفتار کرائیں۔
رپورٹ ٹھیک نہیں دوبارہ انکوائری کرنا ہوگی، سانحہ کی فرانزک رپورٹ اور ڈی این اے ٹیسٹ ہونے چاہئیں۔،سانحہ پمز پر وفاقی پولیس کی فوجداری مقدمے کیلئے رپورٹ تیار ہے۔
رپورٹ کے مطابق ہسپتال ایمرجنسی میں آتشزدگی کی اطلاع وائرلیس کنٹرول پر ملی، اے ایس آئی محمد عارف موقع پر پہنچے تو آپریشن جاری تھا، واقعے میں گائنی وارڈ کے چلڈرن ایمرجنسی میں 14 بچے جان کی بازی ہار گئے تھے۔





