پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور ایندھن کی بچت کے پیشِ نظر وفاقی حکومت نے ملک بھر میں سخت کفایت شعاری اقدامات کا اعلان کر دیا ہے۔
جاری کردہ فیصلے کے مطابق سرکاری گاڑیوں کے فیول کوٹے میں اگلے تین ماہ کے لیے 50 فیصد کمی کر دی گئی ہے، تاہم آپریشنل گاڑیوں، لازمی سروسز اور ترقیاتی منصوبوں کو اس کٹوتی سے استثنیٰ حاصل ہو گا۔
اس کے علاوہ مالی سال 2026-27 کے لیے نان ای آر ای بجٹ میں 5 فیصد کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ سرکاری گاڑیوں اور آئی ٹی آلات کے علاوہ ہر قسم کی پائیدار اشیا کی خریداری پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
نئے ضوابط کے تحت اگست اور ستمبر سمیت اگلے تین ماہ کے لیے تمام غیر ملکی دوروں پر پابندی ہوگی اور ناگزیر دوروں کی صورت میں وزراء، مشیران اور سرکاری حکام صرف اکانومی کلاس میں سفر کریں گے۔ سرکاری اجلاسوں کے لیے ویڈیو کانفرنسنگ کو ترجیح دی جائے گی اور غیر ملکی وفود کے علاوہ سرکاری فنڈز سے عشائیوں، سیمینارز اور کانفرنسز پر مکمل پابندی عائد ہوگی۔
ناگزیر تقریبات کے لیے صرف سرکاری آڈیٹوریمز یا کمیٹی رومز استعمال کیے جائیں گے اور شادی کی تقریبات میں صرف ایک ڈش پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
کاروباری مراکز اور اوقاتِ کار کے حوالے سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ تمام دکانیں، مارکیٹس اور شاپنگ مالز رات 9 بجے، شادی ہالز اور مارکیز رات 10 بجے جبکہ ریسٹورنٹس اور فوڈ آؤٹ لیٹس رات 11 بجے بند ہوں گے۔ تاہم ریسٹورنٹس کی ہوم ڈیلیوری اور ٹیک اوے سروسز اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
اسی طرح اسپتال، فارمیسیز، کلینکس، پیٹرول پمپس، الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز، بیکریز، تندور اور جم جیسے ضروری شعبوں کو بھی اوقاتِ کار کی پابندی سے استثنیٰ دیا گیا ہے۔





