نورعلی وزیر
جنوبی وزیرستان لوئر کی وادی شکئی میں خوجل خیل اور سپرکئی قبائل کے درمیان دیرینہ اراضی تنازع ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے جس کے بعد دونوں فریقین کے درمیان فائرنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق دونوں قبائل کے سینکڑوں افراد مورچہ زن ہیں اور ایک دوسرے پر فائرنگ کر رہے ہیںجبکہ مقامی جرگہ اور علاقہ مکین فریقین کے درمیان فائر بندی کرانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
دوسری جانب امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ نے تحصیل شکئی کے علاقوں لنڈی نور اور کنڑائی راغزئی میں 17 ستمبر سے 16 اکتوبر 2026 تک 30 روز کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق علاقے میں چار یا اس سے زائد افراد کے جمع ہونے، اسلحے کی نمائش، مورچے قائم کرنے اور سڑکیں بند کرنے پر مکمل پابندی عائد ہوگی اور خلاف ورزی پر دفعہ 188 تعزیراتِ پاکستان کے تحت کارروائی کی جائے گی۔
صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے وادی شکئی میں پولیس کی بھاری نفری بھی تعینات کر دی گئی ہے۔
اہل علاقہ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انضمام کے بعد تشکیل دی گئی لینڈ کمیٹی کو فعال کیا جائے اور پٹواری نظام کی غیر موجودگی کے باعث پیدا ہونے والے اراضی تنازعات کے مستقل حل کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔





