کوہاٹ: پرانی پولیس لائن کے قریب دھماکے کے بعد ریسکیو 1122 کا سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے۔
، ریسکیو حکام کے مطابق اب تک 7 افراد شہید اور 30 سے زائد زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا جا چکا ہے۔
ریسکیو 1122 کے ترجمان بلال احمد فیضی کے مطابق جائے وقوعہ پر جاری سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں 14 ایمبولینسز، ریسکیو وہیکلز اور ریکوری وہیکل سمیت 45 سے زائد ریسکیو اہلکار حصہ لے رہے ہیں۔
ترجمان کے مطابق ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں مصروف ہیں اور آپریشن مکمل ہونے تک امدادی سرگرمیاں جاری رہیں گی۔
افواج پاکستان کے دستے بھی جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔ پاک فوج کے جوان آپریشنیں حصہ لے رہےہیں۔
دوسری جانب ابتدائی اطلاعات کے مطابق پولیس لائن کے قریب دھماکے کے بعد زخمیوں کو ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے، جبکہ پولیس ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئی ہیں اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پولیس لائن کے قریب مسجد اور سی ٹی ڈی دفتر کو گاڑی کے ذریعے خودکش حملے کا نشانہ بنایا گیا، تاہم دھماکے کی نوعیت اور حملے سے متعلق دیگر تفصیلات کی سرکاری سطح پر حتمی تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔
جوابی کارروائی میں فتنۃ الخوارج کے 3 دہشت گرد ہلاک، تینوں کا تعلق افغانستان سے بتایا گیا
واقعے کے بعد پولیس اور سکیورٹی فورسز نے علاقے میں کارروائی شروع کردی ہے، جبکہ جائے وقوعہ کے اطراف جانے والے راستے بند کیے گئے ہیں۔
حملہ آور کے افغان ہونے سے متعلق بھی ابتدائی اطلاعات زیرِ گردش ہیں، تاہم اس دعوے کی سرکاری تصدیق ہونا باقی ہے۔
ریسکیو حکام کے مطابق سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن مکمل ہونے تک مزید زخمیوں یا جاں بحق افراد کی تعداد میں تبدیلی کا امکان ہے۔
خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے اس بڑے واقعے کے بعد وزیراعلیٰ اور صوبائی وزراء کہاں ہیں؟ سہیل آفریدی کی عدم موجودگی پر سوالات اٹھنے لگے۔





