سوات: سوات موٹروے فیز ٹو چکدرہ سے مدین تک منصوبے کے ٹھیکے میں صوبائی حکومت کی جانب سے مختص 11 ارب روپے کے چار سال سے استعمال نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
ذرائع کے مطابق سوات موٹروے فیز ٹو کا ٹھیکہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) کے تحت زیڈ کے بی نامی کمپنی کو دیا گیا تھا، جس کے لیے صوبائی حکومت نے اپنے حصے کے طور پر 11 ارب روپے فراہم کیے تھے۔
ایک سابق فنانس سیکرٹری نے بتایا کہ پی پی پی منصوبوں میں حکومت کی جانب سے ادا کی جانے والی رقم کو وی جی ایف کہا جاتا ہے، جبکہ منصوبے کی باقی لاگت ٹھیکیدار کو خود برداشت کرنا ہوتی ہے۔ معاہدے کے تحت موٹروے مکمل ہونے کے بعد ٹھیکیدار کو 30 سال تک ٹول پلازوں سے حاصل ہونے والی آمدن ملتی ہے۔
ذرائع کے مطابق 2022 میں سوات موٹروے فیز ٹو کے لیے پی پی پی کے ذریعے اشتہار جاری کیا گیا تھا۔ اس وقت صوبائی حکومت کے پاس وی جی ایف کی مد میں 11 ارب روپے موجود نہیں تھے۔
ذرائع کے مطابق اُس وقت کے وزیراعلیٰ محمود خان نے فنانس سیکرٹری کو طلب کرکے بجٹ میں مختلف منصوبوں کی رقوم ختم یا مختص کرکے سوات موٹروے فیز ٹو کے لیے 11 ارب روپے مختص کیے اور کمپنی کو کام شروع کرنے کی ہدایت کی۔
اُس وقت وزیراعلیٰ کے اسپیشل سیکرٹری محمد خالق نے بتایا کہ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر کمپنی نے مشینری لاکر منصوبے پر کام شروع کیا، تاہم حکومت کی مدت ختم ہونے کے بعد ٹھیکیدار نے مشینری واپس لے لی اور کام روک دیا۔
یہ بھی پڑھیں : موبائل فونز پر سیلز ٹیکس کی آسان اقساط میں ادائیگی: ایف بی آر نے منظوری دے دی
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کے بعد سے منصوبے پر کام تعطل کا شکار ہے جبکہ حکومت کی جانب سے فراہم کردہ 11 ارب روپے کے استعمال سے متعلق سوالات اٹھ رہے ہیں۔
ایک بینکر کے مطابق اگر 11 ارب روپے فکسڈ ڈپازٹ میں رکھے جائیں تو موجودہ شرح کے حساب سے اس رقم پر ماہانہ تقریباً 8 کروڑ 52 لاکھ روپے منافع حاصل ہوسکتا ہے۔
تاہم اس رقم کے حوالے سے یہ واضح نہیں کہ اسے کہاں رکھا گیا ہے یا اس سے کس نوعیت کا مالی فائدہ حاصل کیا جارہا ہے۔
دوسری جانب ٹھیکیدار کمپنی سے مؤقف لینے کے لیے رابطہ کیا گیا، تاہم کمپنی کی جانب سے اس معاملے پر کوئی مؤقف فراہم نہیں کیا گیا۔
سوات موٹروے فیز ٹو چکدرہ سے مدین تک اہم منصوبہ ہے، تاہم منصوبے پر کام رکنے اور حکومت کی جانب سے فراہم کردہ رقم کے استعمال سے متعلق مزید وضاحت درکار ہے۔





