ایم ڈی کیٹ 2026 آج ہوگا، ایک لاکھ 38 ہزار سے زائد امیدوار رجسٹرڈ

کراچی سمیت ملک بھر میں میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایڈمیشن ٹیسٹ (ایم ڈی کیٹ) 2026 آج منعقد کیا جا رہا ہے، جس میں مجموعی طور پر ایک لاکھ 38 ہزار 158 امیدوار شرکت کے لیے رجسٹرڈ ہیں۔

پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کے مطابق سندھ میں ایم ڈی کیٹ کا انعقاد سیبا ٹیسٹنگ سروسز کے زیر انتظام کیا جا رہا ہے۔

سکھر آئی بی اے یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر آصف احمد شیخ کے مطابق سندھ میں ایم ڈی کیٹ کے لیے 8 شہروں میں مجموعی طور پر 9 امتحانی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ امتحانی مراکز کراچی، حیدرآباد، جامشورو، لاڑکانہ، سکھر، میرپورخاص، شہید بینظیرآباد اور اسلام آباد میں قائم کیے گئے ہیں، جبکہ اسلام آباد میں ایک مرکز ہوگا۔

ان کے مطابق سندھ میں سکھر آئی بی اے یونیورسٹی کے تحت 34 ہزار 235 امیدوار ایم ڈی کیٹ میں شریک ہوں گے۔ کراچی میں امتحان کے لیے دو مراکز قائم کیے گئے ہیں، جہاں این ای ڈی یونیورسٹی اور ڈاؤ یونیورسٹی اوجھا کیمپس میں امیدوار ٹیسٹ دیں گے۔

حکام کا کہنا ہے کہ این ای ڈی یونیورسٹی میں تقریباً 6 ہزار جبکہ ڈاؤ یونیورسٹی اوجھا کیمپس میں 4 ہزار 964 امیدوار امتحان میں شریک ہوں گے۔ اس طرح کراچی میں مجموعی طور پر تقریباً 11 ہزار طلبہ و طالبات ایم ڈی کیٹ دیں گے۔

ایم ڈی کیٹ کا امتحان آج اتوار کو صبح 10 بجے شروع ہوگا، جبکہ امیدواروں کو صبح ساڑھے 6 بجے تک اپنے متعلقہ امتحانی مراکز پر رپورٹ کرنا ہوگا۔ سیبا ٹیسٹنگ سروسز نے امیدواروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ مقررہ وقت کی پابندی کرتے ہوئے بروقت امتحانی مراکز پہنچیں۔

امتحان کا دورانیہ 3 گھنٹے مقرر کیا گیا ہے۔ امتحانی انتظامیہ کے مطابق ٹیسٹ ختم ہونے سے قبل کسی امیدوار کو مرکز سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہوگی اور تمام امیدواروں کو امتحان مکمل ہونے تک اپنی نشستوں پر موجود رہنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں : میڈیکل کالجز میں داخلوں کیلئے ایم ڈی کیٹ، امتحان کل صبح 10 بجے ہوگا

امتحان مکمل ہونے کے بعد امیدوار سوالیہ پرچہ اپنے ساتھ نہیں لے جا سکیں گے۔ مرکز سے روانگی سے قبل سوالیہ پرچہ نگران عملے کے حوالے کرنا لازمی ہوگا۔

انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ اگر کوئی امیدوار سوالیہ پرچہ واپس نہیں کرتا تو اس کا نتیجہ منسوخ کردیا جائے گا۔

امتحانی مراکز میں موبائل فون سمیت کسی بھی قسم کی ڈیجیٹل ڈیوائس لے جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ حکام کے مطابق امتحان کے دوران کسی بھی قسم کی بے ضابطگی برداشت نہیں کی جائے گی۔

سکھر آئی بی اے یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر آصف احمد شیخ نے کہا ہے کہ ایم ڈی کیٹ کا پیپر لیک نہیں ہونے دیا جائے گا اور اس حوالے سے کیے گئے وعدے کو ایک بار پھر دہرایا گیا ہے۔

سیبا ٹیسٹنگ سروسز کے مطابق تمام امتحانی مراکز پر امیدواروں کے والدین اور سرپرستوں کے لیے الگ انتظار گاہیں قائم کی جائیں گی۔

یہ بھی پڑھیں : صوبائی مینجمنٹ سروسز امتحان میں 5 ہزار امیدواروں میں صرف 50 کامیاب

امتحانی ہال میں امیدواروں کو ضروری اسٹیشنری اور صاف پینے کا پانی بھی فراہم کیا جائے گا۔ پی ایم ڈی سی کے مطابق والدین اور سرپرستوں کے لیے امتحانی مراکز پر دیگر ضروری سہولیات کا بھی انتظام کیا جائے گا۔

ایم ڈی کیٹ 2026 میں ایک اہم تبدیلی جیوینائل کارڈ سے متعلق کی گئی ہے۔ اس سال جیوینائل کارڈ کی لازمی شرط ختم کردی گئی ہے، جس کے باعث جیوینائل کارڈ نہ رکھنے والے امیدوار بھی امتحان میں شرکت کرسکیں گے۔

تاہم امیدواروں کی شناخت کے لیے امتحانی مرکز میں اصل مارک شیٹ کی جانچ کی جائے گی۔ حکام نے امیدواروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ شناخت اور ضروری دستاویزات سے متعلق تمام ہدایات پر عمل کریں۔

انتظامیہ نے امیدواروں کو تاکید کی ہے کہ وہ امتحانی مرکز پر بروقت پہنچیں، کسی ممنوعہ چیز کو اپنے ہمراہ نہ لائیں اور امتحان کے دوران عائد تمام ضوابط کی مکمل پابندی کریں۔

Scroll to Top