جنید اکبر کی زبان بتا رہی ہے کہ عمران خان نے ان کو کیا سبق پڑھایا ہے، وزیر دفاع

جنید اکبر کی زبان بتا رہی ہے کہ عمران خان نے ان کو کیا سبق پڑھایا ہے، وزیر دفاع

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ جنید اکبر کی زبان بتا رہی ہے کہ عمران خان نے ان کو کیا سبق پڑھایا ہے، اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کتنے پاکستانی ہیں اور اقتدار حاصل کرنے کے لیے کس حد تک جا سکتے ہیں۔

ایکس پر اپنے ایک بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ نہ اسلام آباد سومنات ہے اور نہ ہی یہ شخص محمود غزنوی ہے، اسلام آباد پاکستان کا دارالحکومت، قلعۂ اسلام اور وفاق کی علامت ہے۔ مخالفین کی زبان سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کتنے پاکستانی ہیں اور اقتدار حاصل کرنے کے لیے کس حد تک جا سکتے ہیں۔

خواجہ آصف نے سوال کیا کہ کیا ان کا دل خیبر پختونخوا میں روزانہ بہنے والے خون پر نہیں دکھتا؟ کیا طالبان ان کے اتحادی ہیں جو یہ خیبر پختونخوا پولیس اور بہادر جوانوں کی شہادتیں روکنے کے بجائے مزید انتشار اور نفرت پھیلا رہے ہیں؟

انہوں نے سوال اٹھایا کہ 27 ستمبر کے حوالے سے جس حملے کی بات کی جا رہی ہے، کیا وہ طالبان کا حملہ ہے؟ کیا پاکستان میں مقیم افغان اس لشکر کا حصہ ہوں گے؟ وفاق پوری طاقت کے ساتھ اس کا دفاع کرے گا۔

وفاقی وزیر دفاع نے کہاکہ اقتدار حاصل کرنے کے لیے عمران نیازی اور ان کے پیروکار کس حد تک جا سکتے ہیں، ہم نے 9 مئی کو دیکھا، 26 نومبر کو بھی دیکھا اور اب یہ شخص اپنے عزائم ظاہر کر رہا ہے۔ پاکستانی عوام ان کی اصل حقیقت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی پُرامن احتجاج پر یقین نہیں رکھتے بلکہ تشدد اور خونریزی کا راستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں، وزیر اطلاعات

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ یہ لوگ کل بھی امن، ترقی اور پاکستان کے دشمن تھے، آج بھی ہیں اور کل بھی رہیں گے۔ لاکھوں اختلافات اپنی جگہ، لیکن کوئی پاکستانی ایسی زبان استعمال نہیں کر سکتا۔

وزیر دفاع کا مزید کہنا تھا کہ جنید اکبر کی زبان پاکستان مخالف زبان ہے۔ کیا اب بھی کسی کے ذہن میں کوئی ابہام باقی رہ گیا ہے؟

Scroll to Top