شہزاد اکبر کیسے عمران خان کابینہ کا حصہ بنا؟ جارج سوروس اور جمائمہ کا کردار منظر عام پر آ گیا

اسلام آباد: جارج سوروس، ریپریو، جمیما گولڈ اسمتھ، شہزاد اکبر اور سابق وزیراعظم عمران خان کے درمیان مبینہ روابط اور پاکستان کی سیاست و پالیسی پر ان کے اثرات سے متعلق مختلف دعوے اور سوالات سامنے آئے ہیں۔

دستیاب معلومات کے مطابق جارج سوروس کی اوپن سوسائٹی فاؤنڈیشنز دنیا بھر میں انسانی حقوق، عدالتی اصلاحات اور مختلف سماجی و سیاسی منصوبوں کی مالی معاونت کرتی رہی ہیں۔

دوسری جانب برطانوی انسانی حقوق کی تنظیم ریپریو بھی پاکستان میں ڈرون حملوں اور انسانی حقوق سے متعلق معاملات پر کام کرتی رہی ہے۔

ریپریو کے مطابق سابق وزیراعظم کے مشیر شہزاد اکبر ماضی میں تنظیم کے فیلو رہ چکے ہیں اور پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف کام کرتے رہے ہیں۔

شہزاد اکبر نے فاؤنڈیشن فار فنڈامنٹل رائٹس کے ذریعے پاکستان میں ڈرون حملوں سے متاثرہ افراد کے قانونی معاملات پر بھی کام کیا۔

2012 کی ایک رپورٹ کے مطابق وہ اس تنظیم کے شریک بانی تھے اور ڈرون حملوں کے متاثرین کی جانب سے قانونی کارروائیوں میں سرگرم رہے۔

یہ بھی پڑھیں : عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائما گولڈ اسمتھ نے دوسری شادی کی تصاویر شیئر کردیں

بعد ازاں عمران خان کی حکومت میں شہزاد اکبر کو احتساب سے متعلق ذمہ داریاں سونپی گئیں اور وہ اثاثہ جات ریکوری یونٹ سے بھی وابستہ رہے۔

اسی دور میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی کی جانب سے منجمد کیے گئے تقریباً 190 ملین پاؤنڈ کی پاکستان واپسی کا معاملہ بھی سامنے آیا۔

£190 ملین کے القادر ٹرسٹ کیس میں نیب کے ریفرنس کے مطابق شہزاد اکبر سمیت متعدد افراد کو ملزم نامزد کیا گیا، جبکہ عدالت نے بعد ازاں عمران خان اور بشریٰ بی بی کو کیس میں سزا سنائی۔ شہزاد اکبر اس مقدمے میں مفرور قرار دیے گئے افراد میں شامل رہے۔

کیس کی تفصیلات کے مطابق برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی نے ملک ریاض خاندان کے ساتھ ایک تصفیے کے تحت تقریباً 190 ملین پاؤنڈ کی رقم پاکستان منتقل کی۔

یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی اب کوئی وجود نہیں رکھتی، قیادت احتجاج کے بجائے مذاکرات کرے، محمود خان

یہ رقم سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں منتقل ہوئی، جسے نیب اور حکومت کے مؤقف میں قومی خزانے سے متعلق معاملہ قرار دیا گیا۔

دوسری جانب عمران خان اور ان کے حامیوں نے مقدمے میں عائد الزامات کو سیاسی قرار دیتے ہوئے ان کی مخالفت کی ہے۔ کیس میں عدالت کے فیصلے کے خلاف قانونی اپیلیں بھی دائر کی گئی ہیں۔

شہزاد اکبر کے کردار سے متعلق نیب کے ریفرنس میں کہا گیا کہ انہوں نے برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی کے ساتھ معاملات اور رقم کی منتقلی میں اہم کردار ادا کیا۔ تاہم ان الزامات اور قانونی نتائج کو متعلقہ عدالتی کارروائی اور فیصلوں کے تناظر میں دیکھا جانا ضروری ہے۔

اس پورے معاملے میں جارج سوروس، اوپن سوسائٹی فاؤنڈیشنز، ریپریو، جمیما گولڈ اسمتھ اور عمران خان کے درمیان براہِ راست ایک مربوط سیاسی یا مالی منصوبے کے دعوے بھی کیے جاتے رہے ہیں، تاہم ان دعوؤں کے تمام حصوں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوتی۔

یوں شہزاد اکبر کے انسانی حقوق کے کام سے لے کر عمران خان حکومت میں احتساب کی ذمہ داریوں اور بعد ازاں £190 ملین القادر ٹرسٹ کیس تک ان کے کردار نے پاکستان میں سیاسی اور قانونی سطح پر متعدد سوالات کو جنم دیا ہے۔

Scroll to Top