سینئر صحافی اور معروف تجزیہ کار منیب فاروق نے اپنے تازہ وی لاگ میں انکشاف کیا ہے کہ ملک میں نئے صوبوں کی تشکیل کے لیے آئینی ترمیم پر انتہائی تیز رفتاری سے پیش رفت جاری ہے اور یہ معاملہ اپنے حتمی مراحل کی جانب بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے ان افواہوں اور خدشات کو مکمل طور پر رد کر دیا کہ خیبرپختونخوا کی موجودہ سیاسی صورتحال یا وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے معاملے کی وجہ سے نئے صوبوں کے قیام کا منصوبہ سست روی کا شکار ہوا یا بیک برنر پر چلا گیا ہے۔
منیب فاروق کے مطابق موجود نظام نے اس اہم پیش رفت کو اپنی سرفہرست ترجیحات (Priority Items) میں شامل رکھا ہوا ہے اور اس پر کام پانچویں گیئر میں چل رہا ہے۔
آئینی، قانونی اور سیاسی نکات کا گہرا تجزیہ کرتے ہوئے وی لاگ میں بتایا گیا کہ بعض حلقوں کا خیال تھا کہ آئین کے آرٹیکل 239(4) کی موجودگی میں متعلقہ صوبائی اسمبلی کی باضابطہ قرار داد کے بغیر صوبوں کی حدود میں تبدیلی ناممکن ہے، تاہم حکومت اور متعلقہ حلقوں میں اس قانونی رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے جامع حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے۔
اس وقت دو مختلف آئینی اختیارات پر تیزی سے غور کیا جا رہا ہے۔ پہلی تجویز کے تحت پہلے مرحلے میں ایک ترمیم کے ذریعے آرٹیکل 239(4) کو بالکل ختم کیا جائے اور بعد میں آنے والی آئینی ترمیم میں نئے صوبوں کے قیام کا باضابطہ اعلان کیا جائے جبکہ دوسری اور قوی تجویز یہ ہے کہ ایک ہی ماسٹر آئینی ترمیم لائی جائے جس کے اندر آرٹیکل 239(4) کو فارغ کرنے کے ساتھ ساتھ نئے صوبوں کے قیام کی مکمل قانونی بنیاد فراہم کر دی جائے۔
منیب فاروق نے حتمی تاثر دیتے ہوئے واضح کیا کہ تمام قانونی اور آئینی راستے ہموار کیے جا رہے ہیں اور نئے صوبے ہر صورت بن کر رہیں گے۔





