مراکش کے بادشاہ شاہ محمد ششم نے فاطمہ زہرا المنصوری کو ملک کی پہلی خاتون وزیراعظم مقرر کر دیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ تاریخی پیشرفت ان کی جماعت کی جانب سے گزشتہ ہفتے منعقد ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں کامیابی کے بعد سامنے آئی ہے۔
انتخابات کے نتائج کے مطابق 395 رکنی قومی اسمبلی میں ان کی سیاسی جماعت ‘صداقت اور جدیدیت پارٹی’ (Authenticity and Modernity Party) نے 97 نشستیں حاصل کیں، جو کہ 66 نشستیں حاصل کر کے دوسرے نمبر پر آنے والی جماعت کے مقابلے میں 31 نشستیں زیادہ ہیں۔ پارلیمنٹ میں واضح اکثریت نہ ہونے کے باعث انہیں حکومت سازی کے لیے دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ اتحادی معاہدے کرنا ہوں گے۔
شاہی کابینہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق شاہ محمد ششم نے 50 سالہ فاطمہ زہرا المنصوری کو نئی حکومت تشکیل دینے کی باقاعدہ ذمہ داری سونپ دی ہے۔ وہ اس سے قبل ملک کی وزیر ہاؤسنگ کے طور پر خدمات انجام دے چکی ہیں اور تاریخی شہر مراکش (Marrakesh) کی میئر بھی رہ چکی ہیں۔
فاطمہ زہرا المنصوری کی سیاسی خدمات کا سلسلہ کافی طویل ہے۔ وہ اس سے قبل 2009 میں بھی شہر مراکش کی میئر منتخب ہوئی تھیں اور اس اہم سیاسی مقام پر فائز ہونے والی ملک کی پہلی خاتون کا اعزاز حاصل کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں : حکومت نے پیٹرول او رڈیزل کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کردیا
واضح رہے کہ مراکش میں نیم آئینی بادشاہت کا نظامِ حکومت قائم ہے جہاں حتمی اقتدار اور انتظامی اختیارات کا سرچشمہ شاہ محمد ششم ہی ہیں۔ اگرچہ 2011 کی آئینی اصلاحات کے ذریعے پارلیمنٹ اور وزیراعظم کے اختیارات و خودمختاری میں اضافہ کیا گیا لیکن اس کے باوجود ملک کی اہم اور بنیادی پالیسیوں پر بادشاہ کو وسیع تر اختیارات حاصل ہیں۔





