وفاقی آئینی عدالت نے مارگلہ ہلز میں واقع مشہور مونال ریسٹورنٹ کیس میںاپنا 44 صفحات کا جامع تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے جسے جسٹس حسن اظہر رضوی نے تحریر کیا ہے۔
عدالت عالیہ نے کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) اور میٹرو پولیٹن کارپوریشن کی جانب سے دائر کی گئی نظرثانی کی اپیلوں کو منظور کرتے ہوئے سپریم کورٹ کا 21 اگست 2024 کا سابقہ فیصلہ اور نظرثانی حکم دونوں منسوخ کر دیے ہیں۔
عدالتی فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ پہلے متاثرہ دھڑوں کو اپنے دفاع اور سماعت کا حق دیے بغیر فیصلہ سنایا گیا جو کہ بنیادی انصاف کے اصولوں کے خلاف تھا اور جس سے سنگین عدم شفافیت پیدا ہوئی۔
تحریری فیصلے میں سپریم کورٹ کے ان مشاہدات کو یکسر حذف کر دیا گیا ہے جن میں بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے مونال ریسٹورنٹ کو مارگلہ کی پہاڑیوں میں آگ لگنے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا یا فریقین کی سیاسی وابستگیوں کا ذکر کیا گیا تھا۔
عدالت نے یہ قاعدہ طے کیا کہ فیصلے شخصیات یا فرض کر دہ باتوں کی بجائے صرف شواہد اور آئین و قانون کی روشنی میں ہونے چاہئیں۔
ملکیت، پٹے (لیز) اور کرائے کی ادائیگی سے متعلق تمام تنازعات اب دیوانی (سول) عدالت کے سپرد کر دیے گئے ہیں۔
وائلڈ لائف بورڈ کو کرایہ وصول کرنے کا دیا گیا اختیار ختم کر دیا گیا ہے اور انہیں حکم دیا گیا ہے کہ اب تک وصول شدہ رقم فوری قومی خزانے میں جمع کروائی جائے۔
سول عدالت کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ماضی کے کسی عدالتی تاثر سے متاثر ہوئے بغیر تمام جڑے ہوئے مقدمات کو یکجا کر کے وفاقی حکومت کی شمولیت کے ساتھ میرٹ پر جلد از جلد نمٹائے۔
یہ بھی پڑھیں : پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافہ، نوٹیفکیشن جاری
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ نیشنل پارک کی حدود میں کسی بھی سرگرمی یا تعمیر کی قانونی حیثیت کا فیصلہ ماحولیاتی تحفظ کے قوانین اور اصل مقاصد کو مدنظر رکھ کر ہوگا اور سی ڈی اے کی محض اجازت کسی غیر قانونی یا ماحول دشمن کام کو جائز نہیں بنا سکتی۔ کیس سے متعلق دیگر زیر التوا اپیلوں کو بھی ان کے قانونی میرٹ کے مطابق الگ سے دیکھا جائے گا۔





