پروفیسرز اور اسسٹنٹ پروفیسرز کی تنخواہیں بڑھا دی گئیں، ایچ ای سی کا بڑا فیصلہ

اسلا م آباد: ہائر ایجوکیشن کمیشن نے ٹینیور ٹریک سسٹم پر کام کرنے والے یونیورسٹی اساتذہ کی تنخواہوں میں نمایاں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا، جبکہ بیسک پے سکیل پر تعینات فیکلٹی کے لیے پوسٹ پی ایچ ڈی تجربے کی لازمی شرط بھی عارضی طور پر مؤخر کردی گئی ہے۔

جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق اساتذہ کے مالی فوائد میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے۔ نئے سکیل کے تحت پروفیسر کی کم از کم تنخواہ 407,220 روپے جبکہ زیادہ سے زیادہ تنخواہ 712,030 روپے مقرر کی گئی ہے۔

اسی طرح ایسوسی ایٹ پروفیسرز کے لیے نئے پے سکیل میں کم از کم تنخواہ 357,810 روپے اور زیادہ سے زیادہ 645,610 روپے مقرر کی گئی ہے، جبکہ اسسٹنٹ پروفیسرز کی کم از کم تنخواہ 288,020 روپے اور زیادہ سے زیادہ تنخواہ 553,820 روپے تک ہوگی۔

نظرثانی شدہ پے سکیلز کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق وہ اساتذہ جو 30 جون 2026 تک ملازمت میں موجود ہوں گے، ان کی تنخواہوں کو بھی نئے سکیل کے مطابق ایڈجسٹ کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا پرتشدد احتجاج کا متحمل نہیں ہوسکتا، پی ٹی آئی حکومت دہشتگردی پر خاموش تماشائی ہے، امیر حیدر ہوتی

ہائر ایجوکیشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ تنخواہوں میں اضافے کا تمام مالی بوجھ متعلقہ یونیورسٹیاں اپنے ذاتی وسائل سے برداشت کریں گی اور اس مقصد کے لیے کمیشن یا وفاقی حکومت کی جانب سے کوئی اضافی گرانٹ جاری نہیں کی جائے گی۔

دوسری جانب بیسک پے سکیل کے تحت تعینات فیکلٹی کے لیے بھی اہم فیصلہ کیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پروفیسرز کے لیے پی ایچ ڈی کے بعد 8 سالہ تجربے اور ایسوسی ایٹ پروفیسرز کے لیے 4 سالہ تجربے کی لازمی شرط 31 دسمبر 2026 تک مؤخر کردی گئی ہے۔

کمیشن نے واضح کیا ہے کہ مقررہ تاریخ کے بعد اس شرط میں مزید توسیع نہیں کی جائے گی اور یکم جنوری 2027 سے تمام جامعات میں پوسٹ پی ایچ ڈی تجربے کی شرط پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے گا۔

پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں ٹینیور ٹریک سسٹم کا آغاز اساتذہ کی کارکردگی بہتر بنانے اور بیرونِ ملک مقیم قابل پاکستانی محققین کو ملک واپس لانے کے مقصد سے کیا گیا تھا۔

تاہم گزشتہ چند برسوں سے اساتذہ کی جانب سے بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناسب سے تنخواہوں پر نظرثانی نہ ہونے کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔

فیکلٹی ممبران کی جانب سے اس معاملے پر احتجاج بھی کیے گئے اور یہ مؤقف سامنے آتا رہا کہ مراعات میں کمی کے باعث جامعات کو قابل اور ماہر اساتذہ کے بیرونِ ملک منتقل ہونے کی صورت میں برین ڈرین کے خطرے کا سامنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا حکومت کا عدم تعاون، گیس چوری میں تشویشناک اضافہ

نئی پالیسی کے تحت تنخواہوں میں اضافے کو اساتذہ کی حوصلہ افزائی اور تحقیق کے معیار میں بہتری کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اس اضافے کا مالی بوجھ جامعات پر ڈالے جانے کے باعث ان کے مالی وسائل پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ بھی موجود ہے۔

پاکستان کی متعدد سرکاری جامعات پہلے ہی مالی مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں اور بعض جامعات کو ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی کے لیے بھی مالی دباؤ کا سامنا ہے۔ ایسے میں نئے مالی بوجھ کو اپنے وسائل سے پورا کرنا جامعات کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔

بیسک پے سکیل فیکلٹی کے لیے پوسٹ پی ایچ ڈی تجربے کی شرط میں عارضی رعایت بھی اعلیٰ تعلیمی اداروں میں سینئر اور اعلیٰ سطح کی فیکلٹی کی ضرورت کی جانب اشارہ کرتی ہے۔

مجموعی طور پر نئی پالیسی اساتذہ کے لیے مالی مراعات میں بہتری کی اہم پیش رفت ہے، تاہم اس کے مالی اثرات جامعات کے لیے ایک بڑا امتحان ثابت ہوسکتے ہیں۔

Scroll to Top