ڈالر چھاپ ’’یوتھیوبرز‘‘ غائب، عوام سڑکوں پر، لانگ مارچ کیلئے اکسانے والے منظر سے اوجھل

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے احتجاجی لانگ مارچ کے دوران سوشل میڈیا پر کارکنوں کو متحرک کرنے والے بعض یوٹیوبرز اور سوشل میڈیا شخصیات کے کردار پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

سوشل میڈیا پر احتجاج اور مزاحمت کی کالز دینے والے بعض افراد عملی طور پر خود میدان میں موجود دکھائی نہیں دے رہے، جس کے باعث عام کارکنوں اور سوشل میڈیا مہم کے درمیان واضح فرق سامنے آ رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق بعض سوشل میڈیا شخصیات نے گزشتہ کئی روز کے دوران اپنی ویڈیوز اور لائیو سیشنز میں پی ٹی آئی کارکنوں کو احتجاج میں شرکت اور آگے بڑھنے کی ترغیب دی، تاہم ان کے عملی طور پر احتجاجی مقامات پر موجود ہونے سے متعلق سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

اس صورتحال میں یہ بحث بھی زور پکڑ رہی ہے کہ سوشل میڈیا پر چلنے والی سیاسی مہم کا نقصان عام کارکن اٹھا رہے ہیں جبکہ اس سے جڑی ڈیجیٹل سرگرمیوں کا فائدہ متعلقہ چینلز اور پلیٹ فارمز کو حاصل ہو رہا ہے۔

عمران ریاض خان، میجر (ر) عادل راجہ، سید حیدر رضا مہدی، ڈاکٹر معید پیرزادہ، صابر شاکر، وجاہت سعید خان، شاہین صہبائی اور سلمان احمد سمیت متعدد سوشل میڈیا شخصیات کے حوالے سے بھی مختلف دعوے اور تنقید سامنے آئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : 700 ارب امن کیلئے تھے، پی ٹی آئی نے لانگ مارچوں پر اڑا دیے، ٹی ٹی پی اور ڈرگ مافیا سے مبینہ گٹھ جوڑ بھی بے نقاب، عاصمہ ارباب

تاہم ان افراد کے لانگ مارچ میں شرکت نہ کرنے یا مالی فوائد حاصل کرنے سے متعلق تمام دعوؤں کی آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں۔

دوسری جانب خیبرپختونخوا میں لانگ مارچ کے دوران کشیدگی کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ اپر وزیرستان میں پی ٹی آئی اور انصاف یوتھ ونگ کے کارکنوں کی پولیس کے ساتھ جھڑپ، پتھراؤ اور فائرنگ کے دعوے کیے گئے ہیں، جن کے نتیجے میں متعدد پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ واقعے کی مکمل تفصیلات اور ذمہ داری کے تعین کے لیے سرکاری تصدیق اہم ہے۔

یوں سوشل میڈیا کی سیاسی مہم، زمینی سطح پر لانگ مارچ کی شرکت اور احتجاج کے دوران پیدا ہونے والی کشیدگی نے پی ٹی آئی کی موجودہ احتجاجی حکمت عملی پر بحث کو مزید تیز کردیا ہے۔

ایک طرف سوشل میڈیا پر بھرپور مہم جاری ہے تو دوسری طرف گراؤنڈ پر کارکنوں کو درپیش مشکلات اور سیکیورٹی صورتحال نے احتجاجی سیاست کے اثرات اور ذمہ داریوں سے متعلق نئے سوالات اٹھا دیے ہیں۔

Scroll to Top