اسلام آباد: تحریک انصاف کے ذریعے میڈیا اور سوشل میڈیا پر پھیلایا جانے والا وہ جھوٹا طوفان اور عوامی سمندر کا پروپیگنڈا بالکل زمین بوس ہو چکا ہے جس کے ذریعے وہ ملک کو مفلوج کرنے کا خواب دیکھ رہے تھے۔
مارچ کے آغاز پر ہی عوام نے پی ٹی آئی کے اس فتنے اور محاذ آرائی پر مبنی سیاسی ایجنڈے کو سرے سے مسترد کرتے ہوئے اپنی عدم دلچسپی کا ایسا تھپڑ رسید کیا ہے جس کی گونج دُور دُور تک سنائی دے رہی ہے۔
تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ لاکھوں کا مجمع سڑکوں پر نکل کر حکومت کو ہلا کر رکھ دے گا، لیکن مارچ شروع ہوتے ہی گلی محلوں، چوراہوں اور شاہراہوں پر سنّاٹا چھا گیا اور ہر طرف خاموشی دکھائی دینے لگی۔
عام شہریوں نے تحریک انصاف کی انتشار پسند سیاست میں شامل ہونے سے صاف انکار کر دیا جس کے باعث شو مکمل طور پر فلاپ اور تاریخ کا سب سے بڑا سیاسی ناکام ڈرامہ بن گیا۔
یہ بھی پڑھیں : مینا خان آفریدی بڑھکیں مارتے رہے، وقت آیا تو غائب، گنڈی چوک میں کارکن بے یارومددگار
پی ٹی آئی کے رہنما جن گاڑیوں اور ڈائس پر کھڑے ہو کر فتح کی باتیں کر رہے تھے ان کے گرد چند درجن سے زیادہ افراد جمع نہ ہو سکے۔ مارچ کا جہاں جہاں سے گزر ہوا وہاں کے مقامی باشندوں نے نہ صرف ان کا ساتھ دینے سے انکار کیا بلکہ ان کے اس فضول تماشے پر شدید سخت تنقید اور بیزاری کا اظہار بھی کیا۔
عوام نے اپنے اس عملی ردِعمل سے ثابت کر دیا ہے کہ وہ ملکی معیشت کو تباہ کرنے، افراتفری پھیلانے اور ذاتی و سیاسی مفادات کے لیے ریاست کو بلیک میل کرنے والے ٹولے کو پہچان چکے ہیں۔
پی ٹی آئی کے دعوے جن پر ہفتوں سے پانی کی طرح پیسہ بہایا جا رہا تھا اور میڈیا میں واویلا مچایا جا رہا تھا ایک لمحے میں مٹی میں مل گئے۔
شو کے مکمل طور پر فلاپ ہو جانے اورعوامی سمندر کے جھوٹ کا پردہ چاک ہونے پر پارٹی کے اعلیٰ ایوانوں میں گہرا سناٹا، مایوسی اور بوکھلاہٹ چھائی ہوئی ہے جبکہ قیادت اب اپنی اس شرمناک رسوائی کا ملبہ ایک دوسرے پر ڈالنے میں مصروف ہے۔





