سہیل آفریدی بڑے عہدے کے لیے نا پختہ، کوئی جان گئی تو ذمہ دار ہوں گے، محسن نقوی

اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے الزام عائد کیا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہونے والے مذاکرات کو سبوتاژ کیا، مذاکرات تقریباً حتمی مرحلے میں پہنچنے کے باوجود خیبرپختونخوا حکومت نے معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کردیا۔

لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ حکومت نے نیک نیتی سے مذاکرات کیے، 12 گھنٹے جاری رہنے والے مذاکرات کے دوران ڈرافٹ چار مرتبہ فائنل ہوا اور ہر بار اس میں تبدیلی کی گئی۔ ان کے مطابق 99 فیصد معاملات پر اتفاق ہوچکا تھا تاہم آخری مرحلے میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی جانب سے مزید تبدیلیوں کا مطالبہ کیا گیا۔

محسن نقوی کا کہنا تھا کہ اگر فیصلے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے ہی کرنے تھے تو انہیں خود مذاکرات میں شریک ہونا چاہیے تھا۔ ان کے مطابق انہوں نے مذاکرات کے دوران بھی تجویز دی تھی کہ وزیراعلیٰ یا ان کا کوئی نمائندہ مذاکراتی عمل میں موجود ہو۔

یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کیلئے مکمل تیار ہیں،گورنر فیصل کریم کنڈی

وفاقی وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ مذاکرات میں لانگ مارچ کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی بلکہ گفتگو کا بنیادی محور خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کا خاتمہ اور سیکیورٹی سے متعلق معاملات تھے۔ ان کے مطابق پولیس ایکٹ 2026، افغان شہریوں، سابق فاٹا اور ضم شدہ اضلاع، نیشنل ایکشن پلان اور ٹی ٹی پی سمیت مختلف سیکیورٹی امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔

محسن نقوی نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے 72 گھنٹوں میں تحریری معاہدہ اور اس پر عملدرآمد کا منصوبہ دینے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔

اس کے علاوہ دہشتگردوں کو محفوظ ٹھکانے نہ دینے، ٹی ٹی پی، ٹی ٹی اے اور دیگر دہشتگرد گروہوں کی مذمت، افغان مہاجرین سے متعلق قومی پالیسی کی حمایت اور افغان کیمپوں کے خاتمے سمیت متعدد نکات پر اتفاق ہوا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ انسداد دہشتگردی اور پولیس کے لیے خاطر خواہ فنڈز کی فراہمی، مسلح افواج کے ساتھ تعاون بڑھانے، سابق فاٹا اور ضم شدہ اضلاع میں انسداد دہشتگردی سے متعلق فیصلوں اور نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد پر بھی اتفاق کیا گیا تھا، تاہم مذاکرات کے آخری مرحلے میں خیبرپختونخوا حکومت ان commitments سے پیچھے ہٹ گئی۔

یہ بھی پڑھیں : ڈالر چھاپ ’’یوتھیوبرز‘‘ غائب، عوام سڑکوں پر، لانگ مارچ کیلئے اکسانے والے منظر سے اوجھل

محسن نقوی کا کہنا تھا کہ سیاست ان کا مسئلہ نہیں، حکومت صرف خیبرپختونخوا میں دہشتگردی پر قابو پانا چاہتی ہے۔ صوبہ اس وقت جنگ کی صورتحال سے دوچار ہے، اس لیے سیکیورٹی کو سیاسی معاملہ نہیں بنانا چاہیے۔

دوسری جانب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان طویل مذاکرات کسی حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہوگئے۔ گزشتہ روز شام چار بجے شروع ہونے والا مذاکراتی عمل رات تقریباً ڈھائی بجے تک جاری رہا، تاہم فریقین مسودے پر اتفاق نہ کرسکے اور دونوں جانب سے مذاکرات کی ناکامی کی ذمہ داری ایک دوسرے پر عائد کی گئی۔

وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے بھی مذاکرات کی ناکامی پر مؤقف اختیار کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت دہشتگردی کے خلاف آپریشن میں سیکیورٹی فورسز کا ساتھ دینے اور اپنا کردار ادا کرنے کی یقین دہانی سے انکاری ہے، جس کے باعث معاہدہ نہیں ہوسکا۔

ادھر محسن نقوی نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کرکے انہیں پی ٹی آئی کے احتجاج، خیبرپختونخوا کی سیاسی صورتحال اور امن و امان سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ وزارت داخلہ کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ نے صدر مملکت آصف علی زرداری سے بھی ٹیلیفونک رابطہ کیا اور اہم امور پر انہیں آگاہ کیا۔

رانا ثناء اللہ نے واضح کیا کہ لانگ مارچ کو اسلام آباد کی حدود میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

Scroll to Top