اسلام آباد: گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبے میں دہشتگردی کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت پر سخت تنقید کی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ جس صوبے میں دہشتگردی کے باعث عوام مشکلات کا شکار ہوں، وہاں صوبائی حکومت کی ترجیحات کیا ہونی چاہییں؟ ان کے مطابق پی ٹی آئی کے اقدامات اور بار بار کیے گئے سمجھوتوں نے سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں کہ آیا صوبائی حکومت ایسے ماحول کو سہولت فراہم کر رہی ہے جہاں دہشتگرد خیبرپختونخوا میں آزادانہ کارروائیاں کر سکیں۔
Should these not have been the priorities of a provincial government whose own province is bleeding? PTI exposes itself as a faciliator of terrorism. Their actions and repeated compromises raise serious questions about whether it is facilitating the very environment in which terrorists operate freely in KP. Instead of taking ownership of the war against terrorism and protecting our people, the provincial government has backed away from commitments on security. This is shameful and an act of pure cowardice.
— Faisal Karim Kundi (@fkkundi) October 4, 2026
گورنر خیبرپختونخوا نے الزام عائد کیا کہ صوبائی حکومت دہشتگردی کے خلاف جنگ کی ذمہ داری قبول کرنے اور عوام کے تحفظ کے بجائے سیکیورٹی سے متعلق اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے وقت میں جب صوبہ دہشتگردی کا سامنا کر رہا ہے، صوبائی حکومت کو سیکیورٹی معاملات میں مکمل تعاون اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہییں۔
فیصل کریم کنڈی نے پی ٹی آئی کے طرزِ عمل کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام کے تحفظ اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پیچھے ہٹنا قابلِ مذمت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کو سیاسی محاذ آرائی کے بجائے امن اور تحفظ کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں : کارکن گنڈی چوک میں بے سہارا، شفیع جان غائب، پی ٹی آئی کی قیادت کہاں ہے؟
گورنر نے زور دیا کہ صوبائی حکومت کو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اپنی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے وفاقی حکومت اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مؤثر تعاون کرنا چاہیے تاکہ صوبے میں دہشتگردی کے ناسور کا خاتمہ اور عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
یاد رہے کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہاہے کہ خیبرپختونخوا حکومت نے مذاکرات کے آخری مرحلے میں انسدادِ دہشتگردی سے متعلق طے شدہ تحریری معاہدے اور اپنے وعدوں سے انکار کردیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں محسن نقوی نے کہا کہ مذاکرات کے دوران کے پی حکومت نے 72 گھنٹوں کے اندر تحریری معاہدہ اور عملدرآمدی منصوبہ جمع کرانے پر اتفاق کیا تھا۔
The KP Government had agreed to sign a written agreement and submit an implementation plan within 72 hours, covering
• Reconsideration of the Police Act 2026 in light of the security situation and the need to protect security matters from political interference
• Preventing terrorists from operating freely or finding safe havens in the province
• Unequivocal condemnation of TTP/TTA and all other terrorist groups
• Support for the national policy on Afghan refugees, including repatriation and dismantling Afghan camps in KP
• No contact with the Interim Afghan Government
• Substantial funding for counterterrorism operations and the police
• Full provincial ownership of counterterrorism measures and stronger cooperation with the Armed Forces
• Decisions on counterterrorism in the former FATA and merged districts
• Implementation of the National Action PlanLast night, during the final phase of negotiations, the KP Government backed out of these commitments. Security must not be politicised while the province is at War
— Mohsin Naqvi (@MohsinnaqviC42) October 4, 2026
معاہدے میں سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر پولیس ایکٹ 2026 پر نظرثانی اور سیکیورٹی معاملات کو سیاسی مداخلت سے محفوظ رکھنے کی شرائط بھی شامل تھیں۔
وزیر داخلہ کے مطابق کے پی حکومت نے دہشتگردوں کو صوبے میں آزادانہ کارروائی یا محفوظ ٹھکانے بنانے سے روکنے، ٹی ٹی پی، ٹی ٹی اے سمیت تمام دہشتگرد گروہوں کی غیرمبہم مذمت اور افغان مہاجرین سے متعلق قومی پالیسی، ان کی واپسی اور افغان کیمپوں کے خاتمے کی حمایت پر بھی اتفاق کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں : مینا خان آفریدی بڑھکیں مارتے رہے، وقت آیا تو غائب، گنڈی چوک میں کارکن بے یارومددگار
محسن نقوی نے کہا کہ مجوزہ معاہدے کے تحت عبوری افغان حکومت سے رابطہ نہ رکھنے، انسدادِ دہشتگردی اقدامات کی صوبائی ذمہ داری قبول کرنے، پولیس اور انسدادِ دہشتگردی آپریشنز کے لیے خاطر خواہ فنڈز فراہم کرنے اور مسلح افواج کے ساتھ تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق ہوا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ سابق فاٹا اور ضم شدہ اضلاع میں انسدادِ دہشتگردی سے متعلق اہم فیصلے اور نیشنل ایکشن پلان پر مؤثر عملدرآمد بھی معاہدے کا حصہ تھا۔
وفاقی وزیر داخلہ کے مطابق مذاکرات کے دوران کے پی حکومت تحریری معاہدے اور سیکیورٹی پلان پر راضی ہوگئی تھی، تاہم آخری مرحلے میں اس نے اپنے وعدوں سے دستبرداری اختیار کرلی۔
محسن نقوی نے کہا کہ خیبرپختونخوا اس وقت حالتِ جنگ میں ہے، ایسے نازک وقت میں سیکیورٹی کو سیاست کی بھینٹ نہیں چڑھانا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں وفاقی حکومت، صوبائی حکومت اور سیکیورٹی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون ناگزیر ہے۔





