عوام کے تحفظ کی باری آئی تو پی ٹی آئی پیچھے ہٹ گئی، فیصل کریم کنڈی کا سخت ردعمل

اسلام آباد: گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبے میں دہشتگردی کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت پر سخت تنقید کی ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ جس صوبے میں دہشتگردی کے باعث عوام مشکلات کا شکار ہوں، وہاں صوبائی حکومت کی ترجیحات کیا ہونی چاہییں؟ ان کے مطابق پی ٹی آئی کے اقدامات اور بار بار کیے گئے سمجھوتوں نے سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں کہ آیا صوبائی حکومت ایسے ماحول کو سہولت فراہم کر رہی ہے جہاں دہشتگرد خیبرپختونخوا میں آزادانہ کارروائیاں کر سکیں۔

گورنر خیبرپختونخوا نے الزام عائد کیا کہ صوبائی حکومت دہشتگردی کے خلاف جنگ کی ذمہ داری قبول کرنے اور عوام کے تحفظ کے بجائے سیکیورٹی سے متعلق اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے وقت میں جب صوبہ دہشتگردی کا سامنا کر رہا ہے، صوبائی حکومت کو سیکیورٹی معاملات میں مکمل تعاون اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہییں۔

فیصل کریم کنڈی نے پی ٹی آئی کے طرزِ عمل کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام کے تحفظ اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پیچھے ہٹنا قابلِ مذمت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کو سیاسی محاذ آرائی کے بجائے امن اور تحفظ کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں : کارکن گنڈی چوک میں بے سہارا، شفیع جان غائب، پی ٹی آئی کی قیادت کہاں ہے؟

گورنر نے زور دیا کہ صوبائی حکومت کو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اپنی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے وفاقی حکومت اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مؤثر تعاون کرنا چاہیے تاکہ صوبے میں دہشتگردی کے ناسور کا خاتمہ اور عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

یاد رہے کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہاہے کہ خیبرپختونخوا حکومت نے مذاکرات کے آخری مرحلے میں انسدادِ دہشتگردی سے متعلق طے شدہ تحریری معاہدے اور اپنے وعدوں سے انکار کردیا۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں محسن نقوی نے کہا کہ مذاکرات کے دوران کے پی حکومت نے 72 گھنٹوں کے اندر تحریری معاہدہ اور عملدرآمدی منصوبہ جمع کرانے پر اتفاق کیا تھا۔

معاہدے میں سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر پولیس ایکٹ 2026 پر نظرثانی اور سیکیورٹی معاملات کو سیاسی مداخلت سے محفوظ رکھنے کی شرائط بھی شامل تھیں۔

وزیر داخلہ کے مطابق کے پی حکومت نے دہشتگردوں کو صوبے میں آزادانہ کارروائی یا محفوظ ٹھکانے بنانے سے روکنے، ٹی ٹی پی، ٹی ٹی اے سمیت تمام دہشتگرد گروہوں کی غیرمبہم مذمت اور افغان مہاجرین سے متعلق قومی پالیسی، ان کی واپسی اور افغان کیمپوں کے خاتمے کی حمایت پر بھی اتفاق کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں : مینا خان آفریدی بڑھکیں مارتے رہے، وقت آیا تو غائب، گنڈی چوک میں کارکن بے یارومددگار

محسن نقوی نے کہا کہ مجوزہ معاہدے کے تحت عبوری افغان حکومت سے رابطہ نہ رکھنے، انسدادِ دہشتگردی اقدامات کی صوبائی ذمہ داری قبول کرنے، پولیس اور انسدادِ دہشتگردی آپریشنز کے لیے خاطر خواہ فنڈز فراہم کرنے اور مسلح افواج کے ساتھ تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق ہوا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ سابق فاٹا اور ضم شدہ اضلاع میں انسدادِ دہشتگردی سے متعلق اہم فیصلے اور نیشنل ایکشن پلان پر مؤثر عملدرآمد بھی معاہدے کا حصہ تھا۔

وفاقی وزیر داخلہ کے مطابق مذاکرات کے دوران کے پی حکومت تحریری معاہدے اور سیکیورٹی پلان پر راضی ہوگئی تھی، تاہم آخری مرحلے میں اس نے اپنے وعدوں سے دستبرداری اختیار کرلی۔

محسن نقوی نے کہا کہ خیبرپختونخوا اس وقت حالتِ جنگ میں ہے، ایسے نازک وقت میں سیکیورٹی کو سیاست کی بھینٹ نہیں چڑھانا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں وفاقی حکومت، صوبائی حکومت اور سیکیورٹی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون ناگزیر ہے۔

Scroll to Top