تحریک انصاف کے رہنما شیر افضل مروت نے انتشاری مارچ کا پول کھولتے ہوئے کہا ہے کہ میرے سامنے سے ایک چیز گزری ہے جس کو دیکھ کر میں یہ بتا سکتا ہوں کہ خیبرپختونخوا میں تصادم نہیں ہو گا ۔
نجی ٹیلی وژن سے گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے کہا کہ شوکت یوسفزئی سمیت ان کے سیاسی رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ صوبے میں حکومت اب ان کے ہاتھوں میں نہیں ہے، شیر افضل مروت نے سوال اٹھایا کہ تھری ایم پی او اور دفعہ 144 اپنی ہی صوبائی حکومت کے اندر نافذ تو پھر کون سی حکومت ۔
شیر افضل مروت کے مطابق میری دعائیں لانگ مارچ کے ساتھ ہیں، مگر جہاں سے لانگ مارچ شروع ہوا اس کے اردگرد ایک کروڑ کی آبادی ہے مگر رات کو کرک میں پہنچ کر ڈیڑھ سو لوگ بھی موجود نہیں تھے۔
شن کا مزید کہنا تھا کہ اب لانگ مارچ 12 اضلاع سے ہو کر پشاور پہنچ رہا ہے،علی امین گنڈاپور کو خود روکنے کے لیے کنٹینر کھڑے کروا دیے، میرا خیال ہے تصادم نہیں ہو گا، اب گرفتاریاں ہوں گی۔





