موجودہ سیاسی منظرنامے میں تحریک انصاف کی صفوں میں جو ہلچل مچی ہوئی ہے، وہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ مشکل حالات میں سیاسی جماعتوں کے دعوے اور زمینی حقائق کتنے مختلف ہو جاتے ہیں۔
مردان سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی کے ایم پی اے عبدالسلام آفریدی ہوں یا انصاف سٹوڈنٹ فیڈریشن (آئی ایس ایف) کے اہم عہدے دار، جن میں یونیورسٹی کیمپس پشاور کے صدر عامر مروت، زرعی یونیورسٹی پشاور کے سابق چیف آرگنائزر امان اللہ، اسلامیہ کالج پشاور کے سابق جنرل سیکرٹری عبدالباسط، زرعی یونیورسٹی پشاور کے سابق نائب صدر جنید زادہ، اور شفقت اللہ شامل ہیں، ان سب کا بیک وقت روپوش ہو جانا ایک ایسے سیاسی بحران کی عکاسی کرتا ہے جہاں دباؤ بڑھتے ہی صفیں خود بخود بکھرنے لگتی ہیں۔
پچھلے 48 گھنٹوں سے ان تمام ذمہ داران کا اس طرح منظرِ عام سے غائب ہو جانا اور پارٹی قیادت کا انہیں ڈھونڈتے پھرنا اس بات کو واضح کرتا ہے کہ جماعت کے اندر رابطہ کاری کا نظام کس قدر کمزور ہو چکا ہے۔
جب نچلی سطح کے کارکنان اور سٹوڈنٹ ونگ کے عہدے داران اس طرح غائب ہوں، تو اس سے تحریک کی تنظیم پر گہرے اثرات پڑتے ہیں۔ دراصل، ان سب کو یہ اندازہ ہو چکا ہے کہ موجودہ لانگ مارچ یا احتجاجی کال مطلوبہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام ہو چکی ہے اور اسے ایک طرح کا ‘فلاپ شو’ سمجھا جانے لگا ہے۔
ایسے میں جب حکمتِ عملی کے کامیاب ہونے کی امید نہ رہے اور ریاستی یا انتظامی دباؤ اپنے عروج پر ہو، تو کارکنان اپنی جان اور آزادی بچانے کے لیے روپوشی کو ہی واحد راستہ سمجھ لیتے ہیں۔
یہ صورتحال اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے کہ بڑے بڑے نعروں اور طویل احتجاجی دعوؤں کے برعکس، جب عملاً میدان میں اترنے کا وقت آتا ہے تو قیادت اور کارکنان کے درمیان وہ آہنی ربط اور جرات نظر نہیں آتی جو کسی بھی تحریک کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے لازمی ہوتی ہے۔





