پشاور: گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جمعیۃ علمائے اسلام (ف) کے سربراہ فضل الرحمان کے حالیہ خطاب پر شدید ردِعمل اور مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فضل الرحمان ایک سلجھے ہوئے بزرگ سیاست دان ہیں، لیکن ان کے پرسوں کے خطاب سے انتہائی مایوسی ہوئی۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے فضل الرحمان کے موقف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف مولانا صاحب کہتے ہیں کہ گورنر راج غلط ہے، لیکن دوسری طرف وہ خود تسلیم کرتے ہیں کہ وہ اپنے ہی علاقے میں آزادانہ نہیں گھوم سکتے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ دہشت گردی کے خلاف ریاستی اداروں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
بلوچستان میں بی ایل اے اور خیبر پختونخوا میں دیگر دہشت گرد عناصر امن و امان کے لیے چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر گورنر راج حرام ہے تو فوجیوں سے زمینیں لینا حلال ہے کیا؟
یہ بھی پڑھیں : ملتان کے مدرسے کے ایک عام طالبعلم کی اربوں کی سلطنت، فضل الرحمان کے بے نامی محلات اور کالی کمائی کا مکروہ دھندہ بے نقاب
صوبائی وسائل اور ترقی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ معدنیات صرف ڈی آئی خان، ٹانک یا بنوں تک محدود نہیں بلکہ پورے صوبے میں موجود ہیں اور یہ نکالنے کے لیے ہی ہوتی ہیں۔
انہوں نے غیر ملکی اور بیرونی کمپنیوں کو صوبے میں سرمایہ کاری اور معدنیات نکالنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ جب معدنیات نکلیں گی اور فروخت ہوں گی تو یہاں کے لوگوں کو روزگار ملے گا اور صوبہ خوشحال ہوگا۔ ہمارے لوگوں کو اب صرف امن، خوشحالی اور ترقی چاہیے۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ فضل الرحمان خود کہتے تھے کہ ان کے بغیر حکومت نہیں بن سکتی، لیکن اب حکومت بن چکی ہے۔
انہوں نے مولانا صاحب کو دعوت دی کہ وہ آئیں اور صوبے کی خوشحالی، ترقی اور بہتری کے لیے ان کا ساتھ دیں۔ جن لوگوں نے گزشتہ دور میں صوبے کو تباہ کیا، اب یہ صوبہ دوبارہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔
صوبے کے 10 سے 12 اضلاع کو جدید (ماڈرن) اضلاع میں تبدیل کیا جائے گا اور پہلے جو اسلام آباد اور خیبر پختونخوا کے درمیان فاصلے تھے، انہیں ختم کیا جا رہا ہے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے واضح کیا کہ امن و امان کے قیام پر کوئی کمپرومائز نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ سانحے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جبکہ محسن نقوی نے پولیس کے لیے 10 اے پی سی (سخت بکتر بند) گاڑیاں فراہم کی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : مفتی محمود کے ’گناہِ پاکستان‘ والے اعتراف کی ویڈیو وائرل، فضل الرحمان کا پاکستان مخالف چہرہ قوم کے سامنے عیاں
پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کمروں میں بند ہو کر الزام تراشی کرنا بالکل غلط ہے۔ مراد سعید کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ بانی پی ٹی آئی کا “طوطا” اور ان کے بہت قریب ہے، اور مراد سعید جن لوگوں کی پناہ میں ہے، پی ٹی آئی ان کے خلاف کیسے بولے گی؟
انہوں نے کہا کہ ماضی میں صحت اور تعلیم میں اصلاحات کے بلند و بانگ دعوے کیے گئے لیکن آج ڈاکٹرز سڑکوں پر خوار ہو رہے ہیں۔
انہوں نے احتجاج ختم کرنے پر فیکلٹی اور ڈاکٹرز کا شکریہ ادا کیا۔ اپنے اور اپنی انتظامیہ کے شفاف ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ “ہمارا کوئی بھی رشتہ دار کسی بھی سرکاری یا انتظامی ادارے کا سربراہ (ہیڈ) نہیں ہے۔





