وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے کہا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ فضل الرحمٰن دو رنگی چھوڑیں وہ خیبر پختونخوا کے حالات سے بخوبی واقف ہیں، اس لیے انہیں دہشت گردی کے معاملے پر اپنا موقف واضح کرنا ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ فضل الرحمٰن کو دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں حکومت کا ساتھ دینا چاہیے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نے اپوزیشن کے لیے مذاکرات کے دروازے کھلے رکھے ہیں۔ اگر اپوزیشن بامعنی اور بامقصد بات چیت کرنا چاہتی ہے تو وزیراعظم سمیت حکومت کے تمام متعلقہ رہنما اسے خوش آمدید کہیں گے۔
ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کا بنیادی مقصد دہشت گردی کا خاتمہ اور صوبے میں امن و امان کی صورت حال بہتر بنانا ہے۔ پہلے مرحلے میں دہشت گردی سے شدید متاثرہ 12 اضلاع میں دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے، جبکہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں بھی مزید تیزی لائی جا رہی ہے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے طارق فضل چودھری نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں تعمیر و ترقی کے لیے ایک جامع اور مربوط پروگرام ترتیب دیا جا چکا ہے۔ اس منصوبے کے تحت متاثرہ اضلاع میں صوبائی حکومت کی عملداری مکمل طور پر قائم کی جائے گی اور عوام کو امن و استحکام فراہم کرنے کے ساتھ ترقیاتی عمل کو بھی آگے بڑھایا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ ان اضلاع سے عوام کی کسی قسم کی نقل مکانی نہیں ہوگی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز پہلے بھی جاری تھے، تاہم اب ان میں مزید تیزی لائی جا رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پورے خیبر پختونخوا میں تعمیر و ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز کیا جائے گا تاکہ صوبے کے عوام کو بہتر مواقع فراہم کیے جا سکیں۔انہوں نے خیبر پختونخوا کے بعض سیاست دانوں کی جانب سے ایمرجنسی کو معدنیات کے معاملے سے جوڑنے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کرنا قابل مذمت ہے۔
صوبے کی معدنیات خیبر پختونخوا کے عوام کی تھیں، ہیں اور رہیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کے دور میں معدنیات کے حوالے سے جاری کیے گئے ہزاروں لائسنس کی شفاف تحقیقات کی جائیں گی تاکہ حقائق سامنے لائے جا سکیں۔ طارق فضل چودھری نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جاری کوششوں کو سیاسی اختلافات کی نذر نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی ان اقدامات کو سبوتاڑ کرنے کی کوشش کی جائے۔ ان کے مطابق خیبر پختونخوا کی حکومت نے کرپشن اور ذاتی مفادات کے علاوہ عوامی فلاح کے لیے کوئی خاطر خواہ کام نہیں کیا۔
وفاقی وزیر نے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے انہیں اپوزیشن لیڈر بنایا، تاہم اس وقت اپوزیشن اس معاملے پر تقسیم دکھائی دیتی ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اپوزیشن کی اکثریت چاہتی ہے کہ محمود خان اچکزئی اپوزیشن لیڈر نہ رہیں۔انہوں نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام نے بھی محمود خان اچکزئی کی کامیابی کو فارم 47 کی کامیابی قرار دیا ہے۔ ان کے بقول محمود خان اچکزئی کو اس معاملے
پر پارلیمنٹ میں آ کر وضاحت دینی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن پارلیمنٹ، مذاکراتی کمیٹی یا کسی دوسرے مناسب فورم پر بات چیت کرنا چاہے تو حکومت اس کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو درپیش مسائل کے حل، امن و استحکام اور قومی مفاد کے لیے سیاسی قوتوں کو سنجیدہ مکالمے کا راستہ اختیار کرنا چاہیے





