قومی احتساب بیورو (نیب) خیبرپختونخوا نے صحت کارڈ پلس پروگرام میں اربوں روپے کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں، فنڈز کے غلط استعمال اور دیگر سنگین بے ضابطگیوں پر ایکشن لیتے ہوئے پروگرام کے سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر اور چیئرمین ڈاکٹر محمد ریاض تنولی کو 29 اکتوبر 2026ء کو صبح 11 بجے طلب کر لیا ہے۔
نیب کی جانب سے 17 اکتوبر کو جاری کردہ نوٹس کے مطابق، ڈاکٹر محمد ریاض تنولی کو نیب کے پشاور دفتر میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (میڈیکل ونگ) کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔ نیب کے مطابق مالی سال 2023-24ء کے دوران صحت کارڈ پروگرام کے لیے تقریباً 12 ارب روپے جبکہ جولائی 2025ء سے جولائی 2026ء کے عرصے میں 9 ارب روپے کی بھاری رقم جاری کی گئی تھی۔
تحقیقات کے بنیادی نکات اور مانگا گیا ریکارڈ
ابتدائی جانچ پڑتال میں اخراجات کی تصدیق نہ ہونا، مالی دعوؤں میں تضاد، غیر مجاز ادائیگیاں، مستحقین کے ڈیٹا میں بے ضابطگیاں اور ہسپتالوں کے بلوں کے آڈٹ ریکارڈ سے متعلق متعدد سوالات سامنے آئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : صرف اعلانات نہیں، اب عملی کام ! کمشنر کوہاٹ کا پانچ اضلاع میں صفائی اور شہری سہولیات بہتر بنانے کا حکم
نیب نے سابق سربراہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ طلبی کے وقت فنڈز کی وصولی و ادائیگی کا مکمل ریکارڈ، بینک اسٹیٹمنٹس، آڈٹ رپورٹس، وینڈرز اور تھرڈ پارٹی ایڈمنسٹریٹرز کے ساتھ معاہدے، صحت کارڈز کے اجراء اور اپنے ذاتی اثاثوں کے گوشوارے ہمراہ لائیں۔
نیب نے خبردار کیا ہے کہ عدم حاضری کی صورت میں قومی احتساب آرڈیننس 1999ء کے تحت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ واضح رہے کہ یہ نوٹس فی الوقت ابتدائی تحقیقاتی مرحلے کا حصہ ہے۔





