پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے معطل وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی، اسپیکر صوبائی اسمبلی بابرسلیم سواتی اور دیگر افراد کی بازیابی سے متعلق دائر درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے فریقین سے 10 روز میں جواب طلب کر لیا ہے۔
گزشتہ ماہ 11 اکتوبر 2026 کو خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیے جانے کے بعد صوبائی حکومت کے تمام اختیارات گورنر کے سپرد کر دیے گئے تھے۔
اس اقدام کے بعد معطل وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، اسپیکر صوبائی اسمبلی اور دیگر پارٹی رہنماؤں کی محراست اور گمشدگی کا تنازع شدت اختیار کر گیا تھا۔
گورنر راج کے نفاذ کے دو روز بعد معطل وزیراعلیٰ کے بھائی محمد عامر نے پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس میں مؤقف اپنایا گیا تھا کہ سہیل آفریدی کو 11 اکتوبر کو دن دو بجے پولیس افسران کی موجودگی میں وزیر اعلیٰ ہاؤس پشاور سے مسلح اور نقاب پوش نامعلوم افراد زبردستی اٹھا کر لے گئے۔
پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس فرح جمشید پر مشتمل دو رکنی بینچ نے بازیابی کی ان درخواستوں پر سماعت کی۔
یہ بھی پڑھیں : خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے خلاف درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
دورانِ سماعت درخواست گزاروں کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ معطل وزیراعلیٰ اور اسپیکر کو دس روز قبل لاپتا کیا گیا ہے جبکہ وفاقی حکومت کی جانب سے بار بار یہ مؤقف اپنایا جا رہا ہے کہ مذکورہ افراد اسی کی تحویل میں ہیں۔
وکیل نے عدالت کو مزید آگاہ کیا کہ تحریک انصاف کے رہنما جنید اکبر سمیت مزید 11 افراد کو بھی اسپیکر ہاؤس سے حراست میں لیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آئین کے تحت اسپیکر کو آئینی استثنیٰ حاصل ہے اور انہیں اس طرح اسپیکر ہاؤس سے گرفتار نہیں کیا جا سکتا۔
دورانِ سماعت جسٹس سید ارشد علی نے ریمارکس دیے کہ عدالت اس معاملے پر متعلقہ فریقین سے جواب طلب کر لیتی ہے۔ بعد ازاں عدالت نے تمام فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ 10 روز کے اندر جواب جمع کرانے کی ہدایت کر دی۔
یہ بھی پڑھیں : 13 سالہ پٹواری راج اور رشوت کے اڈے تہس نہس، بدعنوان مافیا کے لیے صوبے میں کوئی جگہ نہیں
جبکہ دوسری جانب انتظامی اور سکیورٹی ذرائع کے مطابق 11 اکتوبر کو گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبے میں امن و امان کی شدید کشیدہ صورتحال اور سکیورٹی خطرات کے پیشِ نظر معطل وزیراعلیٰ سہیل آفریدی ناخوشگوار واقعے سے بچانے کے لیے محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اقدام محض ان کی ذاتی حفاظت اور صوبے میں امن و امان قائم رکھنے کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے، جبکہ اپوزیشن کی جانب سے اسے بلاجواز گرفتاری کا رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔





