آبنائے ہرمز میں بارود کی بو یا خاموش شکنجہ؟ حملے سے انکار کے باوجود امریکہ کا ایران کی معاشی ناکہ بندی مزید سخت کرنے کا فیصلہ!

امریکی صدارتی محل (وائٹ ہاؤس) نے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے سائے گہرے ہونے کی افواہوں پر ردِعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ آنے والے حساس وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران کے خلاف کسی قسم کا ملٹری آپریشن کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ تاثرات کے برعکس وائٹ ہاؤس کی نائب پریس سیکرٹری اینا کیلی نے امریکی انتظامیہ کا حتمی مؤقف سامنے رکھتے ہوئے تمام جنگی قیاس آرائیوں کو فی الوقت رد کر دیا ہے۔

یہ اہم پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے دعویٰ کیا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ تہران کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنانے کے حامی ہیں۔ تاہم امریکی انتظامیہ نے اس پر محتاط انداز اپناتے ہوئے اشارہ دیا ہے کہ نومبر کے انتخابات سے پہلے واشنگٹن براہِ راست ٹکراؤ کا خطرہ مول نہیں لے گا۔ اس سے قبل خود صدر ٹرمپ نے بھی سفارتی راستے کھلے رکھنے اور انتخابات تک کسی بڑے حملے سے گریز کرنے کا ذکر کیا تھا۔

اگرچہ فوری جنگ کے امکانی خطرات کو ٹال دیا گیا ہے لیکن واشنگٹن کے تیور بدستور سخت ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق ایران اس وقت معاشی اور فوجی لحاظ سے انتہائی دباؤ میں ہے، اسی لیے آبنائے ہرمز میں جاری بحری ناکہ بندی کو پورے زور و شور سے قائم رکھا جائے گا۔

وائٹ ہاؤس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس تمام تر کشیدگی کے باوجود آبنائے ہرمز سے عالمی سطح پر تیل کی ترسیل ریکارڈ سطح پر جاری رہے گی، تاھم اس حجم کے حوالے سے اعداد و شمار فی الحال راز میں رکھے گئے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران پالیسی میں اس احتیاط کی بڑی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو درپیش داخلی معاشی چیلنجز ہیں۔ فوکس نیوز کے حالیہ سروے نے وائٹ ہاؤس کے ایوانوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، جہاں ٹرمپ کی کارکردگی پر عوامی اعتماد گر کر صرف 36 فیصد رہ گیا ہے جبکہ 64 فیصد ووٹرز ان کی پالیسیوں سے نالاں نظر آتے ہیں۔ بالخصوص مہنگائی پر قابو پانے میں ناکامی پر 55 فیصد عوام نے سخت غصے کا اظہار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ایران کے خلاف جنگ میں فیصلہ کن کامیابی حاصل کرچکے ہیں، جے ڈی وینس کا دعویٰ

بظاہر ایسا لگتا ہے کہ واشنگٹن نے بغير گولی چلائے ایران کو معاشی طور پر مفلوج کرنے کی حکمتِ عملی اپنا رکھی ہے۔ اب دنیا کی نظریں اس بات پر ٹکی ہیں کہ کیا نومبر کے امریکی انتخابات تک یہ عقابی خاموشی برقرار رہ پائے گی یا آبنائے ہرمز میں چھپا یہ تناؤ کسی نئے عالمی بحران کو جنم دے گا۔

Scroll to Top