تحریکِ انتشار کا چھوڑا ہوا کھنڈر اب نہیں رہے گا، گورنر کے احکامات پر صوابی گرلز سکول کو سہولیات کی فراہمی کا حکم

صوابی:  سابقہ حکمرانوں کی 13 سالہ بے حسی، نااہلی اور مجرمانہ غفلت کے باعث ضلع صوابی کی تحصیل رزڑ کے گاؤں نارنجی کا ‘گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول نمبر 2تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے، جہاں 175 معصوم طالبات بنیادی انسانی سہولیات اور محفوظ تعلیمی ماحول سے محروم کھنڈر نما عمارت میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ 

سن 2000ء سے قبل تعمیر شدہ چار کمروں پر مشتمل یہ عمارت گزشتہ 13 سال کے تاریک دور میں حکومتی عدم توجہی اور فنڈز کی بندر بانٹ کی بھیٹ چڑھ کر زبوں حالی کا شکار ہو چکی ہے۔

 جہاں معمولی بارش کے دوران بھی چھتوں سے پانی ٹپکنے کے باعث تعلیمی عمل شدید متاثر ہوتا ہے جبکہ سکول میں پینے کے پانی کا بور تک موجود نہیں اور معصوم بچوں کو قریبی ٹیوب ویل سے پانی لانا پڑتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : 13 سالہ جھوٹ، فریب اور سیاسی ڈرامے بازی کا غرور خاک میں مل گیا، بااختیار ایڈوائزری کونسل کا بنوں کے لیے تاریخی خوشحالی کا اعلان

تاہم صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد بنوں اور صوابی سمیت پورے خیبرپختونخوا میں تعلیمی و صحتی انفراسٹرکچر کی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے، اس سے گاؤں نارنجی کے غیور عوام کی بھی امیدیں وابستہ ہو گئی ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ 13 سال تک تعلیم کے نام پر سیاست کرنے والے نالائق حکمرانوں نے صوابی کے تعلیمی اداروں کو تباہی کے حوالے کیے رکھا۔

مگر اب گورنر کے آہنی فیصلوں، ہنگامی اقدامات اور بااختیار ایڈوائزری کونسل سے یہ قوی امید پیدا ہو چکی ہے کہ سکول کی عمارت کی فوری تعمیرِ نو اور پانی سمیت تمام بنیادی سہولیات کا ہنگامی بنیادوں پر ازالہ کیا جائے گا تاکہ معصوم طالبات کو خوف اور مشکلات سے نکال کر ایک محفوظ اور جدید تعلیمی ماحول فراہم کیا جا سکے۔

Scroll to Top