خیبر پختونخوا میں سرکاری فنڈز کے اجراء کے طریقہ کار کو مزید سخت بنانے کا فیصلہ

پشاور : خیبر پختونخوا کی صوبائی انتظامیہ نے سرکاری فنڈز کے شفاف اور بلا تاخیر استعمال کو یقینی بنانے کے لیے فنڈز کے اجراء اور مالیاتی نظم و ضبط کے طریقہ کار کو مزید سخت کر دیا ہے۔

 محکمہ خزانہ خیبر پختونخوا کی جانب سے جاری کردہ نئی ایس او پیز (SOPs) کے تحت مجاز اتھارٹی کی پیشگی منظوری کے بغیر ایس اے پی (SAP) سسٹم میں کسی بھی قسم کے فنڈز کے اندراج پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

بغیر پیشگی منظوری اندراج پر پابندی اور انضباطی کارروائی

محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق سیپ (SAP) سسٹم میں فنڈز کے اندراج اور اجراء کے لیے مجاز اتھارٹی کی باقاعدہ ایڈوائس یا پیشگی منظوری لازمی ہو گی۔

بغیر منظوری فنڈز درج کرنے، طریقہ کار کو نظر انداز کرنے، یا فنڈز کے اجراء میں غیر ضروری تاخیر اور غفلت برتنے والے متعلقہ افسران اور اہلکاروں کے خلاف سخت انضباطی کارروائی (Disciplinary Action) عمل میں لائی جائے گی۔

ترقیاتی و جاری بجٹ کی روزانہ بنیادوں پر نگرانی

دستاویزات کے مطابق سالانہ ترقیاتی پروگرام (ADP) اور وفاقی ترقیاتی پروگرام (PSDP) کے تحت فنڈز کے اجراء کے لیے مقررہ فارمیٹس اور قانونی تقاضوں پر مکمل عمل درآمد کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ترقی کے جھوٹے دعوے دھرے رہ گئے، 13 سال کا جمع شدہ کوڑا کرکٹ اب انتظامیہ کے بلڈوزر صاف کر رہے ہیں

اس کے علاوہ ترقیاتی اور جاری (Current) بجٹ کے فنڈز کے اجراء اور اخراجات کی روزانہ کی بنیاد پر سخت مانیٹرنگ کی جائے گی۔

فوری فنڈز کے استثنیٰ کا خاتمہ

نئے احکامات کے تحت فوری نوعیت (Emergency/Urgent) کے فنڈز کے اجراء کی آڑ میں منظوری کے طریقہ کار کو بائی پاس کرنے یا نظر انداز کرنے کی سہولت مکمل طور پر ختم کر دی گئی ہے۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بھی سیکرٹری خزانہ یا متعلقہ مجاز افسر سے پیشگی منظوری لینا فرض ہو گا۔

شفافیت اور تاخیر پر جوابدہی

دستاویز میں ہدایت کی گئی ہے کہ تمام ترقیاتی و جاری فنڈز منظور ہوتے ہی اسی تاریخ کو سیپ (SAP) سسٹم میں درج کیے جائیں۔

اگر کسی وجہ سے فنڈز کے اندراج میں تاخیر ہوتی ہے تو متعلقہ افسر کو اس کی مناسب اور ٹھوس وجہ ریکارڈ پر لانی ہو گی، بصورت دیگر جوابدہی کی جائے گی۔

Scroll to Top