مالاکنڈ ڈویژن میں گھوسٹ اور غیر حاضر ملازمین کے خلاف کارروائی کا حکم

مالاکنڈ: کمشنر مالاکنڈ ڈویژن اقبال حسین بچہ کی ہدایت پر لوئر دیر اور باجوڑ میں محکمہ تعلیم اور محکمہ صحت کے غیر حاضر اور مبینہ گھوسٹ ملازمین کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ 

متعلقہ حکام کو عملے کی حاضری یقینی بنانے، غیر مجاز تبادلوں کا جائزہ لینے اور فرضی ملازمین کی نشاندہی کے لیے اقدامات کی ہدایت کی گئی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس سلسلے میں منعقدہ اجلاس میں ڈپٹی کمشنرز، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسران، ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسران، میڈیکل سپرنٹنڈنٹس اور تعلیمی مانیٹرنگ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

 اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ صوبائی بجٹ کا تقریباً 70 فیصد حصہ تعلیم اور صحت کے شعبوں پر خرچ ہوتا ہے، اس لیے عوامی وسائل کے مؤثر استعمال اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

کمشنر مالاکنڈ ڈویژن نے اساتذہ کی غیر حاضری اور گھوسٹ ملازمین کے معاملے پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے کی ہدایت کرتے ہوئے اسکول پرنسپلز کو عملے کی روزانہ حاضری یقینی بنانے کا ذمہ دار قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا کے مخصوص اضلاع میں محکمہ صحت کی تمام بھرتیاں روکنے کا حکم

 ہدایات کے مطابق اگر کوئی پرنسپل غیر حاضر استاد کے خلاف کارروائی نہیں کرتا تو متعلقہ اسسٹنٹ سب ڈویژنل ایجوکیشن افسر پرنسپل کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی شروع کرنے کا پابند ہوگا۔

کمشنر کی ہدایات کے بعد ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر لوئر دیر مشتاق احمد نے مرد و خواتین پرنسپلز، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسران اور اسسٹنٹ سب ڈویژنل ایجوکیشن افسران کو نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔

نوٹیفکیشن میں عملے کی غیر مجاز ڈٹیلنگ اور ضرورت کی بنیاد پر کیے گئے تبادلوں سے متعلق کارروائیوں کو فوری طور پر منسوخ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ احکامات پر عمل درآمد نہ کرنے والے متعلقہ سربراہان کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی کا انتباہ بھی دیا گیا ہے۔

شفافیت اور احتساب کے عمل کو مؤثر بنانے کے لیے اسکول پرنسپلز کو سرٹیفکیٹ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے، جس میں تصدیق کرنا ہوگی کہ ان کے اسکول میں کوئی گھوسٹ ملازم کام نہیں کر رہا۔

 اس کے علاوہ ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسران کو روزانہ حاضری اور مانیٹرنگ رپورٹس متعلقہ ضلعی تعلیمی حکام کو بھیجنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے تاکہ کسی بھی بے ضابطگی کی صورت میں بروقت کارروائی کی جا سکے۔

دوسری جانب باجوڑ میں بھی محکمہ تعلیم اور محکمہ صحت کے ایسے ملازمین کے خلاف کارروائی کی تیاری کی جا رہی ہے جو طویل عرصے سے ڈیوٹی سے غیر حاضر ہیں یا جن کی موجودگی صرف سرکاری ریکارڈ تک محدود ہونے کی اطلاعات ہیں۔

ذرائع کے مطابق ڈپٹی کمشنر باجوڑ عدنان فرید آفریدی نے دونوں محکموں کے سربراہان کو اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ ملازمین کی نشاندہی اور ضروری اقدامات کی ہدایت کی ہے۔ اس کے بعد دونوں محکموں میں مبینہ گھوسٹ اور غیر حاضر ملازمین کی فہرستیں مرتب کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : خیبر پختونخوا میں سرکاری فنڈز کے اجراء کے طریقہ کار کو مزید سخت بنانے کا فیصلہ

ابتدائی اطلاعات کے مطابق ایسے ملازمین میں نچلے درجے کے اہلکار اور اساتذہ بھی شامل ہیں۔ بعض ملازمین کے بااثر خاندانوں سے تعلق رکھنے کے دعوے بھی سامنے آئے ہیں، تاہم ان اطلاعات کی تصدیق کے لیے حتمی سرکاری اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔

تعلیم اور صحت کے شعبوں میں عملے کی غیر حاضری اور مبینہ فرضی ملازمین کی موجودگی عوامی خدمات کی فراہمی اور سرکاری وسائل کے درست استعمال سے متعلق اہم انتظامی مسائل ہیں۔

 صوبائی بجٹ کا بڑا حصہ ان شعبوں کے لیے مختص ہونے کے باعث ملازمین کی حاضری، مانیٹرنگ اور جواب دہی کو یقینی بنانا خاص اہمیت رکھتا ہے۔

لوئر دیر اور باجوڑ میں جاری اقدامات کے تحت متعلقہ افسران کو عملے کی نگرانی، حاضری کی تصدیق اور قواعد کے مطابق کارروائی پر توجہ دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

 ان اقدامات کے نتائج کا انحصار فہرستوں کی تصدیق، قواعد کے مطابق محکمہ جاتی کارروائی اور نگرانی کے نظام پر مؤثر عمل درآمد پر ہوگا۔

Scroll to Top