پشاور: خیبر پختونخوا کی پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کے بعد قومی احتساب بیورو (نیب) نے سابق حکومتی شخصیات، ان کے اثاثوں اور مختلف ترقیاتی منصوبوں کے خلاف بڑی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
نیب ذرائع کے مطابق غیر فعال وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نیب کے ریڈار پر آ گئے ہیں، جبکہ سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور سابق صوبائی وزرا فضل حکیم اور ڈاکٹر امجد کے اثاثوں کی تفصیلات اور ریکارڈ بھی طلب کر لیا گیا ہے۔
نیب خیبر پختونخوا نے سہیل آفریدی کے دورِ حکومت میں مکمل اور شروع کیے گئے تمام ترقیاتی منصوبوں کی باریک بینی سے چھان بین شروع کر دی ہے اور اس سلسلے میں کمیونیکیشن اینڈ ورکس (سول اینڈ ورکس) ڈیپارٹمنٹ سے مکمل ریکارڈ مانگ لیا گیا ہے۔
قومی احتساب بیورو کی جانب سے ہدایت کی گئی ہے کہ سہیل آفریدی کے دور میں جتنی سڑکیں اور دیگر ترقیاتی کام ہوئے ہیں اور ان کے ٹھیکے جن جن افراد یا کمپنیوں کو دیے گئے، ان کی تمام تر تفصیلات بلا تاخیر فراہم کی جائیں۔
یہ بھی پڑھیں : سونے کی قیمت پانچ ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی، فی تولہ 2,500 روپے سستا
اس سلسلے میں نیب ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ سی اینڈ ڈبلیو، محکمہ ریونیو، رجسٹرار ڈی ایچ اے، پشاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (پی ڈی اے) اور دیگر متعلقہ اداروں کو تمام مطلوبہ ریکارڈ فراہم کرنے کے باقاعدہ نوٹسز جاری کر دیے گئے ہیں۔
ذرائع کا بتانا ہے کہ سابق وزیراعلیٰ اور وزرا کے اثاثوں کی ابتدائی جانچ پڑتال مکمل ہونے کے بعد ان تینوں رہنماؤں کو باضابطہ انکوائری کے لیے نوٹسز جاری کیے جانے کا قوی امکان ہے۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں ہونے والی غیر قانونی بھرتیوں اور کرپشن میں ملوث سرکاری افسران اور بابوؤں کے خلاف بھی گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے اور ان کے کردار کا جائزہ لے کر کارروائی کی تیاری کی جا رہی ہے۔





