ایران نے پاکستان کے ذریعے امریکا سے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر آمادگی ظاہر کردی

ایران کے سابق قونصل جنرل حسن نوریان نے پاکستان اور ایران کے درمیان گہرے تاریخی، مذہبی اور ثقافتی تعلقات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ مشکل حالات میں دونوں ممالک کے درمیان مکالمے، تعاون اور باہمی افہام و تفہیم کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔

حسن نوریان کا کہنا ہے کہ ایران کو درپیش اقتصادی مشکلات کے تناظر میں پاکستان کے عوام کی ہمدردی اور تعاون قابلِ قدر ہیں۔

حسن نوریان نے اپنے پیغام میں کہا کہ ایرانی اور پاکستانی اقوام مشترکہ اقدار سے جڑی ہوئی ہیں، دونوں ممالک کے مذہبی اعتقادات، سماجی اقدار اور ثقافت میں مماثلت پائی جاتی ہے جبکہ تاریخی رشتے اور عوام کے باہمی روابط بھی مضبوط ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم اس وقت سخت ترین اقتصادی پابندیوں کا سامنا کر رہی ہے تاہم دونوں ممالک کی معیشتیں، کمیونٹیز اور ذرائع معاش ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

حسن نوریان کا کہنا ہے کہ جب ایک قوم کو مشکلات کا سامنا ہوتا ہے تو دوسری قوم بھی اس کے اثرات سے متاثر ہوتی ہے جبکہ دونوں ممالک کے عوام مہنگائی اور اقتصادی غیر یقینی صورت حال سے دوچار ہیں۔

سابق ایرانی قونصل جنرل نے موجودہ حالات میں مذاکرات، تعاون اور باہمی افہام و تفہیم کو اہم قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مشکلات کے باوجود خطے کا مستقبل روشن ہو سکتا ہے۔

حسن نوریان نے پاکستانی عوام کی ہمدردی، اظہارِ یکجہتی اور تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مشکل دن گزر جائیں گے اور خطے پر چھائے سیاہ بادل جلد چھٹ جائیں گے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ خطے میں امن، خوشحالی اور استحکام بحال ہوگا اور پاکستان و ایران کے عوام مزید قریب آئیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ دعاگو ہیں کہ دونوں اقوام ایک دوسرے کے دکھ کے بجائے امن کی فتح کا جشن منائیں اور دونوں ممالک کے درمیان بھائی چارے، امن اور خوشحالی کا رشتہ ہمیشہ قائم رہے۔

Scroll to Top