مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال نے عالمی آئل سپلائی کو لپیٹ میں لے لیا

مشرق وسطیٰ میں جنگی صورتحال اور بڑھتے ہوئے سکیورٹی خطرات کے باعث تیل کی ترسیل کرنے والے آئل ٹینکرز کے کرایوں میں تاریخی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد تیل بردار جہازوں کے یومیہ کرائے کئی گنا بڑھ کر بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔

دستیاب اعداد و شمار کے مطابق، جنگ سے قبل آئل ٹینکرز کا یومیہ کرایہ 20 ہزار سے 50 ہزار ڈالر کے درمیان تھا، تاہم جنگی صورتحال کے باعث یہ بڑھ کر 2 لاکھ 54 ہزار ڈالر تک پہنچ گیا، جبکہ بعض جہازوں کے یومیہ کرائے 2 لاکھ 80 ہزار ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق، تیل بردار جہازوں کے یومیہ کرایوں میں معمول کے مقابلے میں پانچ گنا سے زائد اضافہ ہوا ہے۔ 2022 سے 2025 کے دوران آئل ٹینکرز کے یومیہ کرائے عمومی طور پر 20 ہزار سے 50 ہزار ڈالر کے درمیان رہے، تاہم خطے میں جنگی خطرات نے تیل کی ترسیل کے اخراجات میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی ، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری

مشرق وسطیٰ سے مشرق بعید تک خام تیل کی ترسیل کے لیے شپنگ کرائے بھی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ خطے میں سکیورٹی خدشات، جہازوں کی نقل و حرکت میں ممکنہ رکاوٹوں اور بڑھتے ہوئے خطرات کے باعث تیل کی عالمی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔

دوسری جانب، جنگی خطرات کے پیش نظر آئل ٹینکرز کی انشورنس کے پریمیم میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ شپنگ کرایوں اور انشورنس اخراجات میں اضافے سے تیل کی درآمد مہنگی ہونے اور عالمی منڈی میں قیمتوں پر اضافی دباؤ پڑنے کا امکان ہے۔

 

Scroll to Top