باجوڑ کی بچیوں کی اعلیٰ تعلیم کے لیے ایک کالج، صرف دو شعبے اور بے شمار ادھورے خواب!

تحریر: محمد عباس،باجوڑ کے پہاڑوں کے درمیان جب صبح کا سورج طلوع ہوتا ہے تو اس کی روشنی کے ساتھ کئی گھروں میں امید کے چراغ بھی روشن ہوتے ہیں۔ کسی گھر کی بیٹی ڈاکٹر بننے کا خواب دیکھتی ہے، کوئی استاد بن کر اپنے علاقے کے بچوں کا مستقبل سنوارنا چاہتی ہے، تو کوئی اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے اپنے خاندان اور معاشرے کے لیے ایک نئی مثال قائم کرنے کی خواہش رکھتی ہے۔

لیکن ان خوابوں کی راہ میں جب تعلیمی مواقع کی کمی، مالی مشکلات اور فاصلے دیوار بن جائیں تو سوال صرف تعلیم کا نہیں رہتا، بلکہ ان ہزاروں بچیوں کے مستقبل کا بھی بن جاتا ہے جو صلاحیت رکھنے کے باوجود آگے بڑھنے کے مواقع سے محروم رہ جاتی ہیں، اور ضلع باجوڑ میں خواتین کی اعلیٰ تعلیم کے محدود مواقع اسی مسئلے کی عکاسی کرتے ہیں۔

باجوڑ میں طالبات کے لیے اعلیٰ تعلیم کے مواقع بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ باجوڑ گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج میں طالبات کو محدود تعلیمی شعبوں میں تعلیم حاصل کرنے کے مواقع میسر ہیں۔ دو شعبوں، باٹنی  اور اسلامیات، میں مجموعی طور پر 80 نشستیں مختص ہیں، جن میں ہر شعبے کے لیے 40، 40 نشستیں شامل ہیں۔

یہ اعداد و شمار ایک بنیادی سوال کو جنم دیتے ہیں۔ کیا محدود نشستیں اور چند تعلیمی شعبے ضلع کی تمام باصلاحیت طالبات کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہیں؟

ہر طالبہ کی دلچسپی، صلاحیت اور مستقبل کا خواب مختلف ہوتا ہے۔ کوئی میڈیکل پڑھنا چاہتی ہے تو کوئی کمپیوٹر سائنس، کوئی انگریزی ادب، کوئی نفسیات، کوئی معاشیات اور کوئی سائنس کے دیگر شعبوں میں آگے بڑھنے کی خواہش رکھتی ہے۔ لیکن جب تعلیمی اداروں میں مطلوبہ مضامین ہی دستیاب نہ ہوں تو ان کے انتخاب محدود ہو جاتے ہیں۔

بعض طالبات کے لیے تو دوسرے اضلاع میں جا کر تعلیم حاصل کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ سفری اخراجات، رہائش کا مسئلہ، خاندانی ذمہ داریاں اور سماجی رکاوٹیں ان کے راستے مزید مشکل بنا دیتی ہیں۔ یوں کئی بچیاں اپنی خواہشات کو حالات کے سامنے قربان کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ اور اگر کالج کی عمارت کی بات کی جائے تو وہ بھی خستہ حالی کے باعث گرنے کے قریب ہے۔ بچیوں کو نہ صرف چھت بلکہ کلاس رومز اور بیٹھنے کے لیے کرسیوں کی بھی کمی کا سامنا ہے، جس کے باعث طالبات کھڑے ہو کر کلاس لینے پر مجبور ہیں۔ یہ صرف تعلیمی اداروں کی کمی نہیں، بلکہ مواقع تک مساوی رسائی کا مسئلہ بھی ہے۔

باجوڑ میں خواتین کی اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے نئے شعبوں کے قیام اور تعلیمی سہولیات میں اضافے کی ضرورت طویل عرصے سے محسوس کی جا رہی ہے۔ اس حوالے سے سیاسی نمائندوں کے اعلانات اور نئے ڈیپارٹمنٹس کی منظوری سے متعلق دعوے امید ضرور پیدا کرتے ہیں، لیکن اصل اہمیت اس وقت ہوگی جب یہ اعلانات عملی شکل اختیار کریں گے۔۔۔؟

کسی شعبے کی منظوری اپنی جگہ اہم قدم ہے، مگر اس کے بعد فنڈز کا اجرا، تدریسی عملے کی تعیناتی، ضروری ساز و سامان کی فراہمی اور کلاسوں کا باقاعدہ آغاز بھی اتنا ہی ضروری ہے۔

سوال یہ ہے کہ اگر نئے شعبوں کی منظوری دی جا چکی ہے تو ان پر عمل درآمد کی موجودہ صورت حال کیا ہے؟ ان کے لیے فنڈز کب جاری ہوں گے؟ اساتذہ کی تعیناتی اور تدریسی سرگرمیوں کے آغاز کی متوقع تاریخ کیا ہے؟

تعلیم میں ضائع ہونے والا وقت محض کیلنڈر کا ایک صفحہ نہیں ہوتا۔ اس کے ساتھ کسی طالبہ کا اعتماد، اس کے خاندان کی امیدیں اور اس کے بہتر مستقبل کے امکانات بھی وابستہ ہوتے ہیں۔

اب سوال یہ نہیں کہ باجوڑ کی بیٹیاں کیا بننا چاہتی ہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم انہیں وہ مواقع فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں جن کی مدد سے وہ اپنے خواب حقیقت میں بدل سکیں؟

کیونکہ کسی بھی قوم کا مستقبل اس وقت روشن ہوتا ہے جب اس کی بیٹیوں کے ہاتھوں میں ادھورے خواب نہیں، بلکہ تعلیم، ہنر، مارکیٹ تک رسائی اور کامیابی کے مواقع ہوں۔

Scroll to Top