پمز ہاسٹل آتشزدگی کیس :حکومت کا سینئر افسران کے خلاف بڑا فیصلہ

وفاقی دارالحکومت کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال “پمز” کے خواتین نرسنگ ہاسٹل میں آتشزدگی کے پے در پے واقعات کے بعد وفاقی وزارتِ قومی صحت نے سخت انضباطی ایکشن لیتے ہوئے 8 اعلیٰ افسران کے خلاف رسمی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے اور انہیں چارج شیٹیں جاری کر دی ہیں۔

وزارتِ قومی صحت کی موصولہ دستاویزات کے مطابق ان افسران پر ہاسٹل میں حفاظتی انتظامات کے حوالے سے مبینہ غفلت برتنے اور جولائی 2026 میں پیش آنے والے آگ کے پہلے واقعے کے بعد اصلاحی اقدامات یقینی بنانے میں ناکامی کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

وزیراعظم کی منظوری کے بعد یہ کارروائی سول سرونٹس (ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن) رولز 2020 کے رول 2(1)(c) اور رول 9 کے تحت شروع کی گئی ہے۔

دستاویزات میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ جولائی کے واقعے کے دوران انخلا اور ہنگامی ردعمل کی خامیاں سامنے آنے کے باوجود انتظامیہ نے انہیں دور نہ کیا جس کی وجہ سے اگست 2026 میں ایک اور قابلِ تدارک واقعہ پیش آیا۔

چارج شیٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ انسانوں کی حفاظت اور آگ سے تحفظ کے تحریری و قابلِ تصدیق نظام کی عدم موجودگی بدانتظامی اور نااہلی کے زمرے میں آتی ہے اور اگر الزامات ثابت ہوئے تو افسران کو نوکری سے برطرفی جیسی بڑی سزاؤں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

چارج شیٹ کا شکار ہونے والے افسران میں پمز کے معطل شدہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر رانا عمران سکندر، جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر (نان میڈیکل) چوہدری وارث علی رضا، پروفیسر گائنی و ڈائریکٹر ایم سی ایچ پروفیسر ڈاکٹر نوشیلہ امجد، ڈاکٹر مطاہر شاہ، پروفیسر ڈاکٹر سعدیہ ریاض، ڈاکٹر عنیزہ جلیل، ڈاکٹر نغمہ نواز اور محمد عثمان شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : اعلی افسران کے تقرر وتبادلے ،نوٹیفکیشن جاری

تمام افسران کو 14 دنوں کے اندر اپنا تحریری دفاع پیش کرنے اور ذاتی سماعت کی خواہش سے آگاہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ عدم تعمیل پر یک طرفہ کارروائی کی جائے گی۔

معاملے کی جامع تحقیقات کے لیے وفاقی حکومت نے سیکریٹری تجارت جواد پال کی سربراہی میں 3 رکنی انکوائری کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے جس میں سیکریٹری تعلیم ندیم محبوب اور سیکریٹری انسانی حقوق عبدالخالق شیخ شامل ہیں، یہ کمیٹی 60 دن میں تحقیقات مکمل کرکے 7 روز کے اندر رپورٹ پیش کرے گی۔

Scroll to Top