13 سالہ مسلط ٹولے کے جلائے گئے ریڈیو پاکستان سے حق کی فتح، ثمر ہارون بلور کا تاریخی اعلان

پشاور : مشیر برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ خیبر پختونخوا ثمر ہارون بلور نے ریڈیو پاکستان پشاور اور اس کے تاریخی آرکائیوز کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں انہوں نے قومی و تاریخی ورثے کی بحالی اور تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا۔ 

یہ وہی تاریخی عمارت اور میڈیا سینٹر ہے جسے 9 مئی کی سیاہ تاریخ میں صوبے پر 13 سال سے مسلط رہنے والے انتشاری ٹولے نے جلا کر راکھ کرنے کی کوشش کی تھی، مگر آج یہ قومی ادارہ ایک بار پھر آزادیِ اظہار اور سچائی کا علم بلند کر رہا ہے۔

مشیرِ اطلاعات ثمر ہارون بلور نے اپنے دورے کے دوران ریڈیو پاکستان کے تاریخی آرکائیوز کی بحالی کے کام کا معائنہ کیا اور قومی ورثے کی بے پناہ اہمیت کو اجاگر کیا۔

 انہوں نے ریڈیو پاکستان کے نئے قائم کردہ جدید پوڈکاسٹ اسٹوڈیو کا بھی دورہ کیا اور بدلتے ہوئے دور میں جدید میڈیا کے مؤثر استعمال کو سراہا۔

یہ بھی پڑھیں : پشاور میں ایک لاکھ سے زائد غیر رجسٹرڈ پراپرٹی ڈیلرز کی نشاندہی، کارروائی کا فیصلہ

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 13 سال تک صوبے کی معیشت، امن اور انفراسٹرکچر کو تباہ کرنے والے انتشاری عناد نے 9 مئی کو تاریخی قومی اثاثوں کو نشانہ بنایا، لیکن ریاست اور ادارے اپنی شاندار روایات کے ساتھ دوبارہ کھڑے ہو چکے ہیں۔

بعد ازاں، مشیرِ اطلاعات ثمر ہارون بلور نے پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (PID) اور ڈائریکٹوریٹ آف الیکٹرانک میڈیا اینڈ پبلیکیشنز (DEMP) کے دفاتر کا بھی دورہ کیا۔

انہوں نے یومِ سیاہِ کشمیر کے حوالے سے تمام میڈیا نمائندگان، سینئر صحافیوں اور متعلقہ حکام کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے اور کشمیری عوام کا کیس دنیا کے سامنے مؤثر انداز میں پیش کرنے پر پی آئی ڈی اور ڈی ای ایم پی کے کلیدی کردار کو زبردست الفاظ میں سراہا۔

کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے مشیرِ اطلاعات ثمر ہارون بلور نے کہا مظلوم کشمیریوں پر بھارتی غاصب افواج کے مظالم کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا اور ان کے حقِ خودارادیت کی غیر مشروط حمایت کرنا ہم سب کی قومی و اخلاقی ذمہ داری ہے۔

یہ بھی پڑھیں : سانس کے مریضوں کے لیے مشکلات بڑھ گئیں، آکسیجن سلنڈر ہزاروں روپے مہنگے

 کشمیری عوام کی آزادی اور حقِ خودارادیت کے لیے ہماری سفارتی و اخلاقی کاوشیں مزید مضبوط ہونی چاہئیں۔ ان شاء اللہ وہ دن اب دور نہیں جب کشمیری عوام آزادی کا سورج اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کشمیریوں کے ساتھ مسلسل یکجہتی اور ان کی بے مثال جدوجہد کو یاد رکھنے کے لیے ایسی تمام آگاہی سرگرمیاں اور میڈیا کا متحرک کردار انتہائی ضروری ہے۔

Scroll to Top