کامران علی شاہ
پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے جامعات میں ترجمۂ قرآن کی تدریس سے متعلق ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے 2025 کے اعلامیے کے خلاف دائر درخواست پر ایچ ای سی سمیت دیگر متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔
درخواست کی سماعت جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس فرح جمشید پر مشتمل پشاور ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے کی، جہاں درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی نے 2020 میں جبکہ سینیٹ نے 2023 میں ترجمۂ قرآن سے متعلق قراردادیں منظور کی تھیں۔ ان قراردادوں کی روشنی میں ملک کی جامعات میں قرآن مجید کے ترجمے کی تدریس شروع کی گئی تھی۔
درخواست گزار کے وکیل کے مطابق جامعات میں ترجمۂ قرآن کی تعلیم سے مسلم طلبہ مستفید ہو رہے تھے، تاہم 2025 میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے نیا اعلامیہ جاری کیا گیا، جس کے تحت جامعات میں عربی گرامر متعارف کرائی گئی۔
وکیل نے عدالت کو بتایا کہ عربی گرامر کی تدریس کو ترجمۂ قرآن کی تعلیم کے متبادل کے طور پر پیش کرنا متعلقہ قراردادوں کی روح کے منافی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : وزیراعظم یوتھ کروم بُک اسکیم کی اہلیت اور طریقہ کار کی تفصیلات جاری
ان کا مؤقف تھا کہ ترجمۂ قرآن کی تدریس کا مقصد طلبہ کو قرآن مجید کے مفہوم سے آگاہی فراہم کرنا ہے، جسے عربی گرامر کی تعلیم سے تبدیل نہیں کیا جانا چاہیے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے 2025 کے اعلامیے کو کالعدم قرار دیا جائے اور ملک کی جامعات میں ترجمۂ قرآن کی تدریس بحال کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں۔
عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد ایچ ای سی سمیت متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔
اس طرح جامعات میں ترجمۂ قرآن کی تدریس سے متعلق معاملہ اب عدالت میں زیرِ سماعت ہے، جبکہ درخواست پر حتمی فیصلہ آنا باقی ہے۔





