بھارت کو اپنی حدود میں رہنا چاہیے، دہشت گردی کی ایکسپورٹ سے گریز کرے، خواجہ آصف

اسلام آباد: وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھارت کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کو چاہیے کہ وہ دہشت گردی کو کینیڈا، امریکہ اور اپنے ہمسایہ ممالک میں ایکسپورٹ نہ کرے اور اپنی حدود میں رہے۔

انہوں نے بھارت کو خبردار کیا کہ وہ اپنے اندر امن قائم کرے اور اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن تعلقات قائم کرے۔

سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس (سابق ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں خواجہ آصف نے سوال اٹھایا کہ جو ممالک آج پاکستان پر دہشت گردی کا الزام لگاتے ہیں، وہ یہ بتائیں کہ اسامہ بن لادن کو پاکستان کون لے کر آیا تھا؟

 وزیر دفاع نے اس بات کی وضاحت کی کہ اصل میں سویت یونین اور امریکہ کی لڑائی تھی جسے ‘جہاد’ کا لیبل دے کر بن لادن جیسے افراد پاکستان ایکسپورٹ کیے گئے، اور جب ان کا مقصد پورا ہو گیا تو پاکستان کو تنہا چھوڑ دیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج بھی پاکستان اسی دہشت گردی اور اس کے الزامات کا سامنا کر رہا ہے۔

خواجہ آصف نے بھارت کو آئینہ دکھاتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں لاکھوں افراد کو سالوں سے محصور رکھا گیا ہے۔ انہوں نے بھارت کے ظلم و ستم اور 9 سے 10 لاکھ فوج کی تعیناتی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک پوری نسل کو یرغمال بنایا گیا ہے۔

مودی حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں، یا تو یہ واقعات آپ کی دہشت گردانہ ذہنیت کا نتیجہ ہیں، یا پھر ظلم کی انتہا اسے مٹا دے گی، خون پھر خون ہے، ٹپکے گا تو جم جائے گا۔

خواجہ آصف نے مزید کہا کہ بھارت کی نفرت کی سیاست نے مختلف علاقوں میں بغاوتوں کو جنم دیا ہے، جیسے کہ منی پور، ناگالینڈ، تری پورہ، چھتیس گڑھ، پنجاب اور کشمیر۔

یہ بھی پڑھیں ایران نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی پیشکش کر دی

انہوں نے مودی کو یاد دلایا کہ وہ گجرات کے نہیں، بلکہ بھارت کے وزیراعظم ہیں، جو مختلف قومیتوں اور مذاہب کا مجموعہ ہے، اور ہندوتوا کا پرچار بھارت کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا۔

وزیر دفاع نے آخر میں زور دیا کہ بھارت اپنے اندر امن قائم کرے اور اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن تعلقات رکھے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو دہشت گردی کی ایکسپورٹ کرنے کے بجائے اپنی اوقات میں رہنا چاہیے، محبت اور رواداری بانٹنی چاہیے، نفرت نہیں۔

Scroll to Top