پانی کا معاہدہ دونوں ممالک کی رضامندی کے بغیر ختم نہیں ہو سکتا، اسحاق ڈار

Pakistan SCO Summit 2026

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے بھارت کے 60 سالہ سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کے فیصلے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاہدے کو نہ کوئی معطل کر سکتا ہے اور نہ ہی یہ ایک دوسرے کی مرضی کے بغیر ختم ہو سکتا ہے۔

اسحاق دار نے کہا کہ بھارت کا سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا اقدام غیر ذمہ دارانہ ہے جس سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید کشیدہ ہو سکتے ہیں، انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی باہمی رضامندی کے بغیر اس معاہدے کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ پہلگام واقعے کے بعد قوم میں بے چینی تھی کہ کیا ہو گا،  ہم نے بھارت کو ترکی بہ ترکی جواب دینے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کے ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ بھارت کے ساتھ ہمارے کئی معاہدے ہیں جن میں سندھ طاس معاہدہ معطلی کا ذکر نہیں تھا۔

پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان جاری سرد مہری اب ختم ہو چکی ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری آئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اگر ہمارا پانی بند کیا تو ہم آپ کی سانس بند کر دیں گے، حنیف عباسی کا مودی کو للکار

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اس بات کا اعادہ کیا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک اہم بین الاقوامی معاہدہ ہے جسے کسی بھی ملک کی طرف سے یکطرفہ طور پر معطل یا ختم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ اس معاہدے کے تحفظ کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

Pakistan SCO Summit 2026
Scroll to Top