مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں بھارتی سیاحوں کی ہلاکت کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر عالمی برادری متحرک ہو گئی ہے اور دونوں ممالک سے تحمل اور سفارتی راستہ اپنانے کی اپیلیں کی جا رہی ہیں۔
سعودی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں پاکستان اور بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ کشیدگی سے گریز کریں اور تمام تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کریں۔ بیان میں کہا گیا کہ خطے کے امن و استحکام کے لیے ضبط و تحمل اور تدبر کی پالیسی اپنانا ناگزیر ہے۔
کویت نے بھی دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ اشتعال سے بچیں اور مسئلے کا حل پرامن طریقے سے تلاش کریں۔ کویتی وزارت خارجہ نے تحمل اور برداشت کا دامن تھامنے کی ضرورت پر زور دیا۔
ایران نے کشیدگی میں کمی کے لیے ثالثی کی پیشکش کی ہے، جبکہ ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے پاکستان کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترکی ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہے۔
یہ بھی پڑھیں : امریکی وزیر خارجہ کا بھارتی ہم منصب سے رابطہ، پاکستان کیساتھ مل کر کشیدگی کم کرنے پر زور
چین کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بیجنگ پاکستان کی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ روس نے بھی دونوں ممالک سے تحمل سے کام لینے اور تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا ہے۔
واضح رہے کہ پہلگام واقعے میں 26 بھارتی سیاحوں کی ہلاکت کے بعد بھارت نے پاکستان پر الزامات عائد کرتے ہوئے سندھ طاس معاہدے کی معطلی جیسے سخت اقدامات کا اعلان کیا، جس پر پاکستان نے بھی بھرپور سفارتی اور سیاسی ردعمل دیا ہے۔





