آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کا سب سے اہم اور حساس بحری راستہ

آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کا سب سے اہم اور حساس بحری راستہ

آبنائے ہرمز جو خلیج فارس کو بحیرہ عرب اور بحر ہند سے ملاتی ہے دنیا کی سب سے اہم اور حساس بحری گزرگاہ مانی جاتی ہے یہ تنگ راستہ نہ صرف جغرافیائی لحاظ سے اہم ہے بلکہ عالمی توانائی کی ترسیل کا مرکزی ذریعہ بھی ہے۔

یہ گزرگاہ مشرقِ وسطیٰ کے تیل اور گیس کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کا سب سے بڑا راستہ ہے, دنیا میں سمندری راستے سے ہونے والی تیل کی تجارت کا تقریباً 30 فیصد اور قدرتی مائع گیس (ایل این جی) کی تجارت کا 20 فیصد حصہ اسی راستے سے ہو کر گزرتا ہے۔

روزانہ کی بنیاد پر یہاں سے 2 کروڑ 3 لاکھ بیرل تیل اور پٹرولیم مصنوعات جبکہ 29 کروڑ مکعب میٹر قدرتی مائع گیس دنیا کے مختلف خطوں کو برآمد کی جاتی ہے۔

سعودی عرب اس راستے سے تیل کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ہے, قطر قدرتی گیس کی فراہمی میں سرفہرست ہے۔

آبنائے ہرمز سے گزرنے والی ایل این جی کی 80 فیصد مقدار ایشیائی ممالک جیسے چین، بھارت، جاپان اور جنوبی کوریا کو جاتی ہے جبکہ بقیہ 20 فیصد یورپی منڈیوں کا رخ کرتی ہے۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مشرقِ بعید اور جنوبی ایشیا کی معیشتیں اس بحری راستے پر خاص طور پر انحصار کرتی ہیں۔

یہ راستہ اگرچہ مختصر ہے مگر اس کی بندش یا کسی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت پر شدید اثر ڈال سکتی ہے۔

اسی خطرے کے پیشِ نظر امریکا، برطانیہ، فرانس سمیت کئی بڑی عالمی طاقتیں اپنی بحری افواج کو مستقل طور پر یہاں تعینات رکھتی ہیں تاکہ اس راستے کی سیکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کرنا ایک بھیانک غلطی ہوگی، امریکا کا انتباہ

توانائی کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے آبنائے ہرمز کا کھلا اور محفوظ رہنا ناگزیر ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کو توانائی کے متبادل ذرائع اور محفوظ تر رسد کے راستے تلاش کرنے چاہییں تاکہ کسی بھی ممکنہ بحران کی صورت میں عالمی منڈی عدم استحکام کا شکار نہ ہو۔

آبنائے ہرمز کی اہمیت صرف ایک گزرگاہ کے طور پر نہیں بلکہ دنیا کے بڑے توانائی ذخائر کو مؤثر انداز میں دنیا تک پہنچانے کی واحد راہ کے طور پر بھی ہے جس کا فی الحال کوئی مؤثر متبادل موجود نہیں۔

Scroll to Top