دریائے سوات میں ڈوبنے والا سیاح فیملی کا بچہ عبداللہ آٹھویں روز بھی لاپتہ ہے، ریسکیو 1122 کی جانب سے فضاگٹ سے لنڈاکے تک غوطہ خوروں اور جدید آلات کی مدد سے تلاش جاری ہے۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ اب تک مختلف مقامات سے 12 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں تاہم عبداللہ نامی بچہ تاحال لاپتہ ہے جو ڈسکہ سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والی سیاح فیملی کے ہمراہ آیا تھا۔
بچے کی تلاش کے لیے آپریشن کو سوات کے علاوہ بریکوٹ، چارسدہ، ملاکنڈ اور دیگر ملحقہ علاقوں تک توسیع دی گئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ہر ممکن وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں اور جدید کشتیوں کے ساتھ سرچ آلات کی مدد سے تلاش کا عمل مسلسل جاری ہے۔
ریسکیو حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ دریائے سوات کے کنارے احتیاطی تدابیر اختیار کریں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
اب تک دریا سے 12 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں، جاں بحق ہونے والوں میں ڈسکہ کے ایک ہی خاندان کے 9 افراد اور مردان کے 3 بہن بھائی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ہیلی کاپٹر کے ذریعے سوات کا دورہ متاثرین کے زخموں پر نمک پاشی ہے، ڈاکٹر عباد اللہ
ڈسکہ کے اس خاندان کے کل 17 افراد دریا کی بے رحم موجوں کی زد میں آئے تھے جن میں سے 7 افراد بحفاظت واپس پہنچ گئے ہیں تاہم 14 سالہ ایک لڑکا تاحال لاپتہ ہے جس کی تلاش کیلئے آپریشن جاری ہے۔





