فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے کاروباری برادری کے لیے سخت قوانین متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت سیلز ٹیکس میں رجسٹرڈ تمام افراد کو ایف بی آر کے خودکار نظام سے منسلک ہونا لازم قرار دے دیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق ہر تجارتی مرکز میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنا ہوں گے جبکہ ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈ مشینیں، کیو آر کوڈز اور ڈیجیٹل ادائیگی کے دیگر ذرائع کو بھی ایف بی آر سسٹم کے ساتھ منسلک کرنا لازمی ہوگا، آن لائن مصنوعات فروخت کرنے والوں کو اپنی ویب سائٹ، سافٹ ویئر یا موبائل ایپ بھی ایف بی آر سے جوڑنی ہوگی۔
ایف بی آر کے مطابق جو تاجر نظام کا حصہ بنیں گے انہیں ٹیکس حکام کو اپنے کاروباری مقام اور ریکارڈ تک رسائی دینا ہو گی, کسی بھی قسم کی الیکٹرانک چھیڑ چھاڑ پر جرمانے اور دیگر سزائیں دی جائیں گی۔
اگر بجلی یا انٹرنیٹ دستیاب نہ ہو تو تمام انوائسز 24 گھنٹوں کے اندر اپ لوڈ کرنا لازم ہوگا، ایف بی آر نے اعلان کیا ہے کہ ٹیکس چوری کی روک تھام کے لیے ایک انفورسمنٹ نیٹ ورک بھی قائم کیا جائے گا اور بغیر کیو آر کوڈ یا ایف بی آر نمبر کے جاری کردہ انوائسز پر قانونی کارروائی کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت کا قرض اتارنے کا دعویٰ مضحکہ خیز، اتنے امیر صوبے کو گندم بھی ادھار خریدنی پڑی، مزمل اسلم
سیلز ٹیکس کی انوائسز میں ڈیجیٹل دستخط، کیو آر کوڈ اور ایف بی آر کا منفرد نمبر شامل کرنا ہوگا، جبکہ یومیہ، ہفتہ وار اور ماہانہ بنیاد پر ان کا ریکارڈ مرتب کیا جائے گا۔ انوائسز سے متعلق ڈیٹا کو چھ سال تک محفوظ رکھنا بھی لازمی ہوگا۔





