ایڈوکیٹ عاصم واقعے میں جو بھی ملوث ہو، شفاف جوڈیشل انکوائری ہونی چاہیے، گورنر خیبرپختونخوا

الف خان شیرپاو

چارسدہ : گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے چارسدہ میں مبینہ طور پر پولیس فائرنگ سے شہید ہونے والے عاصم شہید ایڈوکیٹ کے گھر جا کر ان کے والد اور دیگر لواحقین سے تعزیت کی اور واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔

گورنر فیصل کریم کنڈی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ عاصم ایڈوکیٹ کے قتل کی جوڈیشل انکوائری کی جائے تاکہ تمام حقائق منظر عام پر آ سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ قتل کا الزام پولیس پر لگایا گیا ہے، اور جوڈیشل انکوائری سے تمام پہلوؤں کی مکمل چھان بین ممکن ہوگی۔

یاد رہے کہ عاصم ایڈوکیٹ تقریباً دس روز قبل مبینہ طور پر پولیس کی فائرنگ سے شہید ہو گئے تھے، جس کے بعد واقعے کی ایف آئی آر سابق ایس ایچ او بہرہ مند شاہ کے خلاف درج کی گئی ہے۔

گورنر نے اس موقع پر امن و امان کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے صوبے میں امن چاہتے ہیں، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کچھ لوگ ایک طرف امن کی بات کرتے ہیں اور دوسری طرف انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کی مخالفت کرتے ہیں۔

انہوں نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد نہ مذاکرات کرتے ہیں، نہ ملک چھوڑتے ہیں، وہ صرف حملے کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : بارش اور سیلاب نے کپاس کی فصل کو نقصان پہنچا کر کسانوں کو پریشان کر دیا

جو لوگ پاکستان اور آئین کو نہیں مانتے، ان کے ساتھ ہم نہیں چل سکتے۔ ریاست کے خلاف اسلحہ اٹھانے والوں کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔

فیصل کریم کنڈی نے واضح کیا کہ امن قائم رکھنے کے لیے ہم اپنی سیکورٹی فورسز کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

معاشی امور پر بات کرتے ہوئے گورنر نے وفاقی حکومت سے شکوہ کیا کہ وفاق کو قرضہ دینے والے سرکاری ملازمین کی تنخواہیں کاٹنا قابل افسوس ہے۔

انہوں نے بتایا کہ این ایف سی ایوارڈ پر ہونے والی میٹنگ حالیہ سیلاب کی وجہ سے تعطل کا شکار ہوئی ہے، جبکہ اس اہم معاملے پر پیشرفت ہونا صوبے کے مفاد میں ہے۔

گورنر کا کہنا تھا کہ ہماری سرکاری آبادی اب 55 لاکھ تک پہنچ چکی ہے، اور موجودہ وسائل اس کے مطابق ناکافی ہیں۔ این ایف سی ایوارڈ کا ہونا خیبر پختونخوا کی ترقی اور مالی استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔

Scroll to Top