1965 کی جنگ کا روشن باب، پاک فضائیہ کا ناقابلِ فراموش کردار

آج ملک بھر میں یومِ فضائیہ جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے، یہ دن 1965 کی جنگ میں پاک فضائیہ کی جرات مندانہ کارکردگی اور فنی مہارت کی یاد تازہ کرتا ہے جب پاکستانی شاہینوں نے دشمن کو نہ صرف فضاؤں میں شکست دی بلکہ تاریخ کے اوراق پر اپنے ناقابلِ فراموش کارنامے ثبت کیے۔

یومِ فضائیہ کی مناسبت سے پاک فضائیہ کے چاک و چوبند دستے آج شہید فلائٹ لیفٹیننٹ راشد منہاس (نشانِ حیدر) کی آخری آرام گاہ پر حاضری دیں گے، پھولوں کی چادر چڑھائیں گے اور وطن کے اس عظیم سپوت کو سلامی پیش کی جائے گی۔

یہ دن ان لمحوں کی یاد دلاتا ہے جب پاکستانی پائلٹس نے دشمن کے کئی فضائی اڈوں کو نشانہ بنا کر بھارت کو بھاری جانی اور مالی نقصان سے دوچار کیا، عددی لحاظ سے برتری رکھنے والی بھارتی فضائیہ کو پاکستانی شاہینوں نے اپنے حوصلے، تربیت اور بے خوفی سے زبردست دھچکہ دیا۔

7 ستمبر 1965 کو فضائی معرکوں میں ایک تاریخ ساز دن کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے اسی دن سکواڈرن لیڈر محمد محمود عالم (ایم ایم عالم) نے سرگودھا کے فضائی محاذ پر صرف چند لمحوں میں دشمن کے پانچ جنگی طیارے مار گرائے، جن میں سے چار محض 30 سیکنڈز کے اندر گرائے گئے۔

ایم ایم عالم کی یہ کارکردگی نہ صرف پاک فضائیہ کے وقار میں اضافے کا سبب بنی بلکہ دنیا بھر میں پاکستانی فضائی قوت کی صلاحیتوں کو تسلیم کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: مسلح افواج نے معرکہ حق بنیان المرصوص میں دشمن کا غرور خاک میں ملایا، وزیراعظم

1965 کی جنگ کے دوران لاہور، سیالکوٹ اور دیگر محاذوں پر پاک فضائیہ نے زمینی افواج کو جس مؤثر انداز میں فضائی معاونت فراہم کی وہ جنگی حکمتِ عملی کا ایک روشن باب ہے۔

Scroll to Top