اسرائیلی آبادکار فلسطینی زیتون کی فصل پر قابض، کسانوں پر حملے جاری

اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ قابض مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے حملوں میں اضافہ کے باعث رواں سال زیتون کی فصل کاٹنے کا موسم گزشتہ دہائی کا سب سے پُرتشدد ثابت ہو رہا ہے۔

فلسطینی سرکاری خبر رساں ادارے وفا کے مطابق ہفتے کے روز شمالی مغربی کنارے کے شہر نابلس کے قریب بیٹا اور حوّارہ کے علاقوں میں اور رام اللہ کے قریب سنجیل میں فلسطینی کسانوں پر اسرائیلی آبادکاروں کے حملے ہوئے، اسی دوران بیت اللحم کے جنوب مشرقی علاقے المُنیا میں زیتون چننے والے تین فلسطینی کسان بھی فائرنگ سے زخمی ہو گئے۔

فلسطینیوں پر آبادکاروں اور اسرائیلی فوج کے حملوں میں اضافہ 2023 میں غزہ پر اسرائیلی جنگ کے آغاز کے بعد سے دیکھا جا رہا ہے تاہم رواں سال زیتون کی فصل کے موسم میں تشدد کے واقعات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے فلسطینی مہاجرین سے متعلق ادارے(یو این آر ڈبلیو اے) نے بتایا کہ اکتوبر 2024 اب تک کا سب سے زیادہ پُرتشدد مہینہ ثابت ہو رہا ہے، جب سے 2013 میں ادارے نے آبادکاروں کے تشدد کا ریکارڈ مرتب کرنا شروع کیا تھا۔

یو این آر ڈبلیو اے کے مغربی کنارے میں امور کے ڈائریکٹر رولانڈ فریڈرک نے کہا کہ زیتون کی سالانہ فصل دسیوں ہزار فلسطینی خاندانوں کے لیے روزگار کا بنیادی ذریعہ ہے اور زیتون کے درخت فلسطینی ثقافت اور شناخت میں گہرے پیوست ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ زیتون کی فصل پر حملے فلسطینیوں کے طرزِ زندگی کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں اور مغربی کنارے میں دباؤ اور جبر کے ماحول کو مزید گہرا کر رہے ہیں۔ فریڈرک نے کہا کہ خاندانوں کو اپنی زمینوں تک محفوظ رسائی حاصل ہونی چاہیے تاکہ وہ اپنی فصل کاٹ سکیں۔

اقوامِ متحدہ کے انسانی امور کے دفتر(او سی ایچ اے) کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق رواں زیتون کے موسم میں اب تک 126 آبادکاری حملے ریکارڈ کیے جا چکے ہیں جو 70 فلسطینی قصبوں اور دیہات میں پیش آئے اور اس دوران 4 ہزار سے زائد زیتون کے درخت اور پودے تباہ کیے گئے ہیں۔

ادھر دائیں بازو کے اسرائیلی سیاستدان جن میں وزیراعظم بنیامین نتن یاہو کی اتحادی جماعتوں کے ارکان بھی شامل ہیں مغربی کنارے کو باضابطہ طور پر اسرائیل میں ضم کرنے کی مہم چلا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر نے نائجیریا کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکی دی

جولائی میں اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے متنبہ کیا تھا کہ مغربی کنارے میں آبادکاروں کا بڑھتا ہوا تشدد اسرائیلی سیکیورٹی فورسز کی حمایت، چشم پوشی اور بعض اوقات براہِ راست شرکت سے انجام دیا جا رہا ہے۔

ادارے کے مطابق یہ حملے اسرائیلی ریاست کی منظم حکمتِ عملی کا حصہ ہیں جس کا مقصد قابض مغربی کنارے پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا اور فلسطینیوں پر امتیاز و دباؤ کے نظام کو مضبوط کرنا ہے۔

 

Scroll to Top