جین زی کی کاکروچ جنتا پارٹی کے کارکنان پھر جنتر منتر پہنچ گئے،پولیس کریک ڈاؤن

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں الیکشن کمیشن کے خلاف احتجاج کے لیے جنتر منتر پر جمع ہونے والے جین زی مظاہرین، طلبہ اور سیاسی رہنماؤں پر دہلی پولیس نے شدید کریک ڈاؤن کرتے ہوئے درجنوں افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ گرفتار ہونے والوں میں عام آدمی پارٹی (آپ) کے دہلی کے صدر سوربھ بھاردواج اور دیگر پارٹی کارکنان بھی شامل ہیں۔

‘جین زی کی قیادت میں کاکروچ جنتا پارٹی اور آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (AISA) کے کارکنان بھارتی چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ مظاہرین نے الیکشن کمیشن پر ووٹر فہرستوں میں مبینہ ردوبدل کے ذریعے حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو فائدہ پہنچانے کا الزام عائد کیا ہے، تاہم حکومت اور الیکشن کمیشن نے ان الزامات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔

دہلی پولیس نے 2 اکتوبر کے اس احتجاج کی اجازت دینے سے انکار کرتے ہوئے علاقے میں بھارتیہ نیا سنہتا کی دفعہ 163 (سابقہ دفعہ 144) نافذ کر دی ہے۔ مظاہرین کو روکنے کے لیے جنتر منتر، ٹالسٹائی مارگ اور کیرالا بھون کی جانب جانے والے راستوں کو رکاوٹیں لگا کر سیل کر دیا گیا ہے۔

سیکیورٹی کے لیے دہلی پولیس، ریپڈ ایکشن فورس اور دیگر نیم فوجی دستوں کے تقریباً 5 ہزار اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ سی سی ٹی وی، ڈرونز اور انسدادِ ہنگامہ آرائی کے سامان کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ دہلی میٹرو کے 11 اسٹیشنوں کے داخلی و خارجی راستے بند کر دیے گئے ہیں اور اطراف کے علاقوں میں شدید ٹریفک پابندیاں عائد ہیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل 25 ستمبر کو بھی بغیر اجازت کیے گئے اسی نوعیت کے احتجاج کے دوران پرشانت بھوشن، یوگیندر یادو اور نیہا بورا سمیت 60 سے زائد مظاہرین کو حراست میں لیا گیا تھا۔

کاکروچ جنتا پارٹی رواں سال بے روزگاری اور امتحانی پرچوں کے افشا کے خلاف سوشل میڈیا پر شروع ہونے والی ایک جین زی تحریک ہے، جس کی قیادت ابھیجیت دپکے کر رہے ہیں۔ اس تحریک کے احتجاج کے باعث حال ہی میں بھارت کے وزیر تعلیم کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا تھا، جسے مودی حکومت کے لیے ایک بڑا سیاسی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔

Scroll to Top